لاہور ہائیکورٹ، ایم کیو ایم لندن کے قائد کے بیانات کی اشاعت اور نشریات پر پابندی کے لیے درخواستوں پر کارروائی کی سماعت

اگر معاملہ آیا تو اسکا جائزہ لیں گے، فل بنچ کے قصور میں حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی کی جانب سے عدلیہ بارے تضحیک آمیز احتجاج سے متعلق ریمارکس

جمعرات اپریل 22:46

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے قصور میں حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی کی جانب سے عدلیہ کے بارے میں تضحیک آمیز احتجاج کرنے سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ معاملہ ان کے پاس آیا تو اسکا جائزہ لیں گے۔

(جاری ہے)

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے ایم کیو ایم لندن کے قائد کے بیانات کی اشاعت اور نشریات کی پابندی کے لیے درخواستوں پر کارروائی کی سماعت کی، سماعت سے قبل بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے قصور میں عدلیہ مخالف احتجاج پر افسوس کا اظہار کیا اس پر اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے نشاندہی کی کہ حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی کے توہین آمیز احتجاج کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد مقدمہ تو درج کر لیا گیا ہے مگر مقدمے میں نرم دفعات شامل کی گئی ہیں اور جرم کے مطابق دفعات کو مقدمے کا حصہ نہیں بنایا گیا اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے آگاہ کیا کہ مقدمے میں جرم کے مطابق دفعات شامل کرنے کے لیے آئی جی پولیس پنجاب کو خط لکھ دیا گیا ہے،بنچ کے سربراہ نے کہا کہ اگر یہ معاملہ ان کے پاس آیا تو ان کا اسوقت جائزہ لیا جائے گا ابھی دوسرا معاملہ زیر سماعت ہے بنچ کے روبرو وفاقی حکومت نے ایم کیو لندن کے قائد کی تقاریر کی نشریات پر پابندی کی رپورٹ پیش کر دی گی،،لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا اور درخواستوں پر آئیندہ کارروائی 10 مئی تک ملتوی کر دی۔