حالیہ سینٹ انتخابات میں پشتونخوامیپ کے اراکین اسمبلی کے پارٹی کے منتخب نمائندوں کو کامیاب کرنے پرداد وتحسین کی مستحق ہے ،ڈاکٹر حامد خان اچکزئی

جمعرات اپریل 23:41

چمن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سابق صوبائی وزیر رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے پشتونخوامیپ ووٹ کے تقدس ، پارلیمنٹ کی بالادستی ، غیر جمہوری قوتوں کی آئین میں دخل اندازی نہ ہونے ، قوموں کے حقوق اور جمہوریت کی بقاء کیلئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی۔حالیہ سینٹ انتخابات میں پشتونخوامیپ کے اراکین اسمبلی کے پارٹی کے منتخب نمائندوں کو کامیاب کرنے پرداد وتحسین کی مستحق ہے ۔

پشتونخوامیپ نے مخلوط حکومت کا حصہ ہوکر ریکارڈ ترقیاتی کام کیئے اور آج بھی مختلف سکیمات پائے تکمیل تک پہنچ رہے ہیں جس سے عوامی مسائل میں کافی حد تک کمی آئیگی۔ وہ چمن میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے افتتاح کے میں منعقدہ جلسے سے خطاب کررہے تھے ۔

(جاری ہے)

جلسے میں ہزاروں کی تعداد میں پارٹی کارکنوں اور عوام نے شرکت کی ۔ جلسے سے پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری علاوالدین کولکوال ،میئر چمن صلاح الدین خان ،ضلعی معاونین حاجی محمد عیسیٰ خان ،حاجی عبدالحلیم پہلوان،حاجی جمال اچکزئی ،چمن پریس کلب صدر اختر گلفام ،جیلانی غبیزئی ،حاجی محمد صدیق،حاجی عبدالباری ادرک زئی ،حاجی جمال شاہ اور صادق اچکزئی نے بھی خطاب کیا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں اس وقت جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی جو جنگ خصوصاً پنجاب میںچل پڑی ہے پشتونخوامیپ اس جنگ میں ہمیشہ کی طرح جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑی رہتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریگی۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ ، سیاستدان اور فوج پر لازم ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کی دفاع کرے اور کسی بھی غیر جمہوری اقدام کا ساتھ نہ دے کیونکہ ہم سب نے پاکستان کے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ سینٹ انتخابات میں پشتونخوامیپ نے اپنے منتخب نمائندوں کو کامیاب کرایا اور اپنے جمہوری موقف پر اراکین اسمبلی ڈٹے رہے جس پر 13کے 13اراکین اسمبلی داد وتحسین کے مستحق ہے ۔ پشتونخوامیپ ملک میں واحد پارٹی ہے جس نے سینٹ انتخابات میں اپنے 13اراکین صوبائی اسمبلی کے ووٹوں سے اپنے نمائندے ایوان بالا میں بھیجے اور زر وزور کے سامنے نہ جھکے نہ بکے ۔

انہوں نے کہا کہ دین مبین اسلام کے مقدس نام پر سیاست کرنے والی جماعت جمعیت اقتدار میں بھی ہے اور حزب اختلاف میں بھی ہے ہے اگر چہ جمعیت حزب اختلاف میں ہے تو حزب اختلاف کی تعداد 38ہوجاتی ہے اور حزب اقتدار کی تعداد 27یا 28ہوجاتی ہے اور یہ صورتحال پشتون بلوچ روایات اور سیاسی اصولوں کی پامالی اور اس صوبے کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے ۔ مذکورہ جماعت کے اراکین میں اتنی جرات نہیں کہ وہ آئینی طور پر حلف لیکر محکموں کی وزارت سنبھالے جبکہ عوام کو دھوکہ دیکر کئی صوبائی محکموں کے وزراء اور مشیر بن بیٹھے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ پشتونخوامیپ عدم مداخلت ، عدم تشدد اور امن کی داعی ہے بوالان سے چترال تک پشتون عوام افغانستان کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں چاہتے اور نہ افغانستان کی پاکستان کے ساتھ دشمنی چاہتے ہیں بلکہ دونوں ممالک اپنے چھوٹے بڑے اختلافات مل بیٹھ کر گفت وشنید سے حل کرے ۔مقررین نے خاردار تار بچھانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 15سے 20ہزار لوگوں کی آمدورفت پر پابندی کی وجہ سے کاروبار ، روزگار ، چمن کے لوگوں کی جائیدادیں ، ہزاروں ایکڑ زمین ، چراگاہیں ہاتھ سے نکل جائیگی اور یہاں کے لوگ نان شبینہ کا محتاج ہونگے ۔

مقررین نے کہا کہ سیاسی کارکنوں ، شریف شہریوں کے گھروں میں غیر آئینی وغیر قانونی طورپر بلاجواز چھاپے مارنے اور چادر وچار دیواری کی تقدس کو پامال کرنے ، مشکوک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کرنے شہریوں کو زخمی کرنے سے گریز کیا جائے اور یہ صورتحال کسی صورت بھی نیک شگون نہیں۔ مقررین نے گورنر ، وزیر اعلیٰ ، کور کمانڈر ، آئی جی ایف سی سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور اس صورتحال کا سختی سے نوٹس لیکر ان غیر آئینی وغیر قانونی اقدامات میں ملوث افیسران واہلکاروں کے خلاف بروقت قانونی کارروائی کرے ۔

مقررین نے کہا کہ پشتونخوامیپ کے اپنے ساڑھے چار سالہ مخلوط حکومت کے ادوار میں عوام کے مسائل میں کمی اور انہیں سہولیات کی فراہمی کیلئے تعلیم ، صحت ، آبنوشی سمیت ہر شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دیئے ۔۔تعلیم کی شعبے نئے سکولوں کی تعمیر ، ایڈیشنل رومز ، سکولوں میں واش رومز ، سکولوں کی چار دیواری ، پرائمری ، مڈل سکولوں کی اپ گریڈیشن ، چمن ماسٹر پلان کی تعمیر ، کیڈٹ کالج کی تعمیر ، ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال کی تعمیر ، پرانے ضلعی ہیڈکوارٹرہسپتال میں زچہ و بچہ کیلئے نئی بلاک کا افتتاح ، نئی ضلعی ہیڈکوارٹراسپتال کی نئی اور شاندار عمارت کا افتتاح ، ٹرانسفارمرز ، کھمبوں کی تنصیب ، واٹر سپلائی سکیمات کی تنصیب ، ڈیموں کی تعمیر ، کاریزات کی صفائی ، مختلف چھوٹے بڑے شاہراہوں کی تعمیر بالخصوص کوئٹہ چمن بین الاقوامی شاہراہ کی تعمیر، مختلف محکموں میں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی سمیت ہر شعبے میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیئے ہیںاور پشتونخوامیپ اپنے اسی عوامی خدمت کے بدولت آئندہ انتخابات میں اپنے عوام کے پاس جائیگی اور اپنے غیور عوام کی خدمت کو اسی جذبے سے جاری رکھے گی۔

شکیل)