حکومت ملک بھر کے بچوں کو مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے ‘

والدین کو مہلک بیماریوں سے اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ویکسینیشن کرانی چاہیئے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سائرہ افضل تارڑ کا حفاظتی ٹیکوں کے عالمی ہفتہ کے موقع پر پیغام

پیر اپریل 19:45

حکومت ملک بھر کے بچوں کو مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے پرعزم ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) وفاقی وزیر برائے قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے حفاظتی ٹیکوں کے عالمی ہفتہ کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں بچوں کے والدین پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے گھرانوں اور کمیونٹی میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ انہوں نے ویکسین کے استعمال سے قابل تدارک مہلک بیماریوں سے اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ان کی ویکسینیشن کرا لی ہے۔

انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک بھر کے بچوں کو ان 10 کے قریب مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے تاکہ ان بچوں کیلئے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مسلسل جدوجہد جاری رکھتے ہوئے اس پروگرام کے تحت مؤثر اور محفوظ ویکسین کی ترسیل میں ہم نے خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

(جاری ہے)

حفاظتی ٹیکوں کا عالمی ہفتہ دنیا بھر میں ہر سال 24 سے 30 اپریل تک منایا جاتا ہے۔ پولیو کے تدارک کے عالمی پروگرام (پی ای آئی) کے تعاون سے حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے وفاقی توسیعی پروگرام (ای پی آئی) کے تحت ملک بھر میں عوامی آگاہی کے مختلف پروگرام ترتیب دیئے جا رہے ہیں۔ مذکورہ ہفتہ کے حوالہ سے اس سال علمی سطح پر جو موضوع متعارف کرایا گیا ہے وہ ہے ’’ویکسین کا استعمال، اجتماعی تحفظ‘‘ اس موضوع کا انتخاب بنیادی طور پر شعبہ صحت سے منسلک تمام شراکتی اداروں، مالی امداد کے عالمی اداروں اور ہیلتھ ورکرز سمیت عوام کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ 10 کے قریب مہلک بیماریوں سے بچاؤ کیلئے حفاظتی ٹیکوں کے حوالہ سے بچوں تک رسائی کے عمل کو یقینی بنائیں۔

اس کیلئے ضروری ہے عوامی آگاہی کے معاملات میں بہتری لاتے ہوئے حکومت بچوں میں حفاظتی ٹیکوں کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بناتے ہوئے عوام تک یہ پیغام بہم پہنچائیں کہ وہ حفاظتی ٹیکوں کے استعمال کے ذریعے اپنے بچوں میں مہلک بیماریوں کے خلاف اپنے بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ وفاقی و صوبائی سطح پر حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام (ای پی آئی) میں وزارت قومی صحت اور صوبائی شعبہ صحت مل کر کام کر رہے ہیںتاکہ دور دراز محرومی کے شکار طبقات میں اس بات کا احساس یقینی بنایا جا سکے کہ ملک کے ہر ایک بچے تک رسائی کا عمل یقینی بناتے ہوئے انہیں ایک مربوط ترسیلی نظام کے ذریعے مہلک بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین اور حفاظتی ٹیکے لگانے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز بھی ایسے تمام بچوں کو ویکسین پلانے اور حفاظتی ٹیکے لگانے کیلئے کوشاں ہیں جو کسی وجہ سے ماضی میں اس سہولت سے محروم رہ گئے تھے۔ حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام (ای پی آئی) نے نیشنل پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ثقلین احمد گیلانی نے حفاظتی ٹیکوں کا ہفتہ منانے کے بارے میں وزارت قومی صحت کی قیادت، بین الاقوامی شراکتی اداروں اور مالی امداد کے عالمی اداروں کے نمائندوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ ترسیلی نظام اعلیٰ معیار کی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے انتہائی موثر اور کارآمد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی طور پر ایک ٹیم کی صورت میں ہم بچوں میں مہلک بیماریوں سے بچاؤ کیلئے ان کی قوت مدافعت میں اضافہ کو یقینی بنا سکتے ہیں اور اس طرح ہم ایک صحت مند قوم کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ مشکل صورتحال کے باوجود ویکسین کی مدد سے کئی جانیں بچا لی گئی ہیں۔ پاکستان میں بچوں کو DTP-3 کی تین خوراکوں کی فراہمی میں سال 2016ء میں 72 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ 2000ء میں یہ شرح 62 فیصد اور 1980ء میں صرف 3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ان اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہے کہ ویکسین کے استعمال سے نومولود بچوں کو ڈائفتھیریا اور ٹیٹنس ٹاکسائیڈ کی پہلی اور تیسری خوراک کے ساتھ پرتوسس ویکسین کے استعمال سے انہیں صحت مند زندگی کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ ویکسینیٹرز/ہیلتھ ورکرز ان اہداف کے حصول کیلئے مشکل ترین حالات کے باوجود انتھک جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی بدولت ہمارے ہیلتھ ورکرز اب تک پاکستان بھر میں 70 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی ویکسین فراہم کر چکے ہیں۔

پولیو کے تدارک کے حوالہ سے قائم ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے نیشنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پولیو پروگرام کے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں ملک بھر میں مہلک بیماریوں کے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں مزید بہتری لانی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حفاظتی ٹیکوں کے عالمی ہفتہ کے اس موقع پر ہمیں اپنے صفِ اول کے ان پولیو ورکرز کے خدمات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے جنہوں نے پولیو کے موذی وائرس کو ملک کے مخصوص حصوں تک محدود رکھنے میں ہمیں مدد فراہم کی۔

ان تمام کامیابیوں کے باوجود ابھی ہمارا مقصد مکمل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں ہمارے صف اول کے پولیو ہیلتھ ورکرز مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ملک بھر کے بچوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکوں لگوانے میں بھی ہمیں مکمل تعاون فراہم کریں گے۔ حفاظتی ٹیکہ جات بچوں کو صحت مند اور محفوظ زینگی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے انتہائی مؤثر اور سستا ترین طریقہ علاج ہے۔

دنیا بھر میں حفاظتی ٹیکوں کی مدد سے 20 سے 30 لاکھ بچوں کو ویکسین کے استعمال سے قابل تدارک مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے۔ حفاظتی ٹیکوں کی مدد سے بچوں میں دیگر ابتدائی امراض کے خلاف بھی قوت مدافعت میں اضافے میں مدد ملتی ہے۔ بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں میں کوتاہی سے ماں اور بچے کو دیگر بیماریاں لاحق ہونے کا بھی خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ حفاظتی ٹیکوں کو ترجیحی بنیادوں پر بچوں کو دلانے سے ہم زیادہ سے زیادہ بچوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔