پختون تحفظ مومنٹ کے جائز مطالبات پر ہر وقت بات چیت کے لئے تیار ہے، لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ

پاکستانی سرزمین سے افغانی و پاکستان طالبان اور داعش کا خاتمہ کردیا گیا ہے،گزشتہ 15سال کے دوران فاٹا میں 14بڑے چھوٹے آپریشنز کئے جاچکے ہیں، دہشت گرد گروہ فاٹا اور بندوبستی علاقوں سے فرار ہوکر بارڈر ایریا میں کاروائیاں کررہے ہیں،،،کور کمانڈر پشاور

منگل اپریل 21:50

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا ہے کہ پختون تحفظ مومنٹ کے جائز مطالبات پر ہر وقت بات چیت کے لئے تیار ہے،پاکستانی سرزمین سے افغانی و پاکستان طالبان اور داعش کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

پشاورمیںملکی سکیورٹی حالات پر میڈیا کو آف کیمرہ بریفنگ دیتے ہوئے کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ کا کہنا تھا کہ منظور پشتین بچوں کی طرح ہے،،فوج جائز مطالبات پر ہر وقت بات چیت کے لئے تیار ہے، گورنر کی سربراہی میں قبائلی مشران و منتخب نمائندگان کا جرگہ پی ٹی ایم کے ساتھ رابطے میں ہے،پختون تحفظ مومنٹ آئینی و قانونی مطالبات کے ساتھ آجائے، بیٹھنے کے لئے تیار ہیں، کورکمانڈر کا کہنا تھا کہ پاکستانی سرزمین سے افغانی و پاکستان طالبان اور داعش کا خاتمہ کردیا گیا ہے، چند سال پہلے کے پاکستان کے مقابلے میں آج کا پاکستان ذیادہ محفوظ اور پرامن ہے، ایک سوال کے جواب میںان کا کہنا تھا گزشتہ 15سال کے دوران فاٹا میں 14بڑے چھوٹے آپریشنز کئے جاچکے ہیں، دہشت گرد گروہ فاٹا اور بندوبستی علاقوں سے فرار ہوکر بارڈر ایریا میں کاروائیاں کررہے ہیںجبکہ پاک فوج کے جوانوں پر بدخشاں، نورستان، کنڑ، پکتیکا اور دیگر سرحدی علاقوں سے حملے ہورہے ہیں، بارڈر مینجمنٹ اور بارڈر پر باڑ لگانے کا کام جاری ہے، 209کلومیٹر بارڈرفنسنگ مکمل ہوچکی ہے، کور کمانڈر پشاور کا کہنا تھا پاک فوج کے تین جوان بارڈر فنسنگ کے دوران شہید ہوچکے ہیں، جبکہ 17زخمی ہوئے ہیں، ان کا کہنا تھا 2018کے اختتام تک 500کلومیٹر کے پاک افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب مکمل ہوجائیگی سرحدی علاقوں میں 443سکیورٹی قلعے تعمیر کئے جانے ہیں، 147 فورٹس مکمل ہوچکے ہیں،،فاٹا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 2014 سے تاحال فاٹا میں 2386 مختلف منصوبے مکمل کئے جاچکے ہیںجن میں 31 نئے اسپتال تعمیر جبکہ 785 مراکز صحت کی اپ گریڈیشن کی جاچکی ہے فاٹا کو مائنز سے صاف کرنے کا کام جاری ہے، 64 فیصد علاقے سے بارودی سرنگیں صاف کی جاچکی ہیںفاٹا میں قائم 399 چیک پوسٹوں میں خاطر خوا کمی لانے کا منصوبہ پہلے سے زیر غور ہے جبکہ ملاکنڈ ڈویڑن میں قائم 70 چیک پوسٹیں گھٹا کر سال کے اختتام تک 7 کردی جائینگی پاک فوج نے ملک میں قیام امن کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیںپاکستانی جھنڈے کو پیروں تلے روندنے والوں کے لئے گنجائش نہیں نکالی جاسکتی۔