نگران سیٹ اپ کے لئے ہم اپوزیشن کی طرف سے آنے والے نام کا انتظار کریں گے، رانا ثناء اللہ

ْاپوزیشن پنجاب میں کوئی اچھا نام لے کر آئی تو اس پر اتفاق ہو سکتا ہے، چوہدری نثار کے حوالے سے میری رائے ہے کہ وہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار نہیں کریں گے۔ وہ مسلم لیگ (ن) کا حصہ ہیں اور حصہ رہیں گے،صوبائی وزیر قانون

بدھ اپریل 19:25

نگران سیٹ اپ کے لئے ہم اپوزیشن کی طرف سے آنے والے نام کا انتظار کریں ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نگران سیٹ اپ کے لئے ہم اپوزیشن کی طرف سے آنے والے نام کا انتظار کریں گے اگر اپوزیشن پنجاب میں کوئی اچھا نام لے کر آئی تو اس پر اتفاق ہو سکتا ہے، چوہدری نثار کے حوالے سے میری رائے ہے کہ وہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار نہیں کریں گے۔ وہ مسلم لیگ (ن) کا حصہ ہیں اور حصہ رہیں گے۔

جہاں تک وکٹ گرانے کی بات ہے تو عمران خان کی کیا اوقات ہے کہ وہ وکٹیں گرائے۔ جو لوگ وکٹیں گرانے کی بات کر رہے ہیں ان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ کہیں پاکستان کی وکٹ نہ گرا دیں، عوام کا فیصلہ ہی کسی کو حکمران بنا سکتا ہے۔ عمران خان اور پنکی پیرنی کے آپس میں ستارے تو ملتے ہیں لیکن پاکستان کے ان کے ساتھ ستارے نہیں ملتے، کے پی کے اور سندھ کے ساتھ کسی طور پر اتحاد نہیں کر رہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ جن قوتوں کے ہاتھوں میں عمران خان کھیل رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ وزیراعظم بن جائیں گے تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے صوبے بجٹ پیش کریں گے تو ہم پھر فیصلہ کریں گے، تاہم وفاقی بجٹ پیش ہونے کے بعد ہی صورتحال واضح ہو گی، بجٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ تو پیش ہو گا سال کا ہو گا یا پھر چار ماہ کا ہو گا۔

27 اپریل کو جب وفاقی بجٹ پیش ہو گا تو ہم بھی اس کے مطابق چلیں گے۔ جہاں تک ریلیف دینے کی بات ہے تو مجھے معلوم نہیں کہ ملازمین کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ ہو گا تاہم جیسا پہلے ہوتا تھا ویسے ہی ہو گا۔ پارٹی میں تفریق کے سوال پر پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پارٹی میں نہ تو کوئی تقسیم ہے اور نہ ہی تفریق، میاں نواز شریف کی سربراہی میں پارٹی بالکل منظم ہے۔

میاں نواز شریف ووٹ کی طاقت سے ووٹ کو عزت دینے کے بیانیہ پر کام کر رہے ہیں کیونکہ 70 برسوں میں جو ووٹ کا تقدس پامال ہوا اب اس کو بچانے کے لئے برسرپیکار ہیں، ایک اور سوال پر صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ جب کسی ملک میں سیاسی جماعتوں اور لیڈر شپ کو کمزور کیا جائے اور جتھے بنائے جائیں تو بقیہ جتھے خود بخود ہی بن جاتے ہیں۔ اس طرح جب ملک کو لسانی، علاقائی، مذہبی اور نظریاتی طور پر ملک میں تقسیم کا عمل شروع ہو جائے تو پھر اگلا قدم ملک میں عدم استحکام اور انتشار کا رہ جاتا ہے۔