کٹھوعہ واقعہ کے مجرموں کوانصاف کے کٹہرے میںلانا بلا لحاظ مذہب ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ‘سید علی گیلانی

جو لوگ اس بہیمانہ واقعے کو فرقہ واریت سے جوڑ کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں ان کیخلاف صف آراہونے کی ضرورت ہے‘چیئر مین حریت کانفرنس

ہفتہ اپریل 19:55

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کٹھوعہ کی 8سالہ ننھی بچی آصفہ کی آبروریزی اور قتل کے المناک واقعے کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے جدوجہد کرنا بلا لحاظ مذہب ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس بہیمانہ واقعے کو فرقہ واریت سے جوڑ کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں ان کے خلاف صف آراہونے کی ضرورت ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ آٹھ برس کی ننھی بچی کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کیا گیا اسکی توقع درندوں سے بھی نہیں کی جاسکتی۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ المناک واقعے کو منافقانہ سیاست کی بھینٹ چڑھانے کی یک گہری سازش رچائی جارہی ہے اور جس طرح سے کنن پوشپورہ ، شوپیاں اور آبروریزی کے دیگر واقعات میں انصاف کا گلا گھونٹا گیا عین اسی طرح کٹھوعہ واقعے کے مقدمے کو بھی مقبوضہ علاقے سے باہر دھکیل کر اسے دفانے کے تانے بانے بھنے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارتی عدلیہ میں کشمیری عوام کے تعیں ایک متعصب ذہنیت پائی جاتی ہے جس وجہ سے کشمیریوں کا اس پر بھی اپنا بھروسہ اور اعتماد اٹھ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارت میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، شیو سینا جیسی ہندو انتہا پسند تنظیموںکا دور دورہ ہے جو ملک کو مکمل طور پر ایک ہندو راشٹریہ میں بدلنے کے لیے پورا زور لڑا رہی ہیں جبکہ انہی جماعتوں کے ذریعے کٹھوعہ واقعے میں انصاف کا قتل ہونے کا اندیشہ ہے۔سید علی گیلانی نے کٹھوعہ سانحہ کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے جنگی جرائم کے ٹریبونل اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے کرانے کا مطالبہ دہرایا۔