نواز شریف نے مجھے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکرائو کیلئے محاذ بنانے کا مشورہ دیا تھا ، آصف زرداری

جب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکر لی تو نواز شریف نے مجھے دھوکہ دیا اور خود اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ، اب کسی صورت نااہل وزیراعظم کے ساتھ ہاتھ نہیں ملائوں گا ، سابق صدر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے کوشا ں ہوں ، ماضی میں انہیں مقتدر اداروں کے ساتھ ٹکرائو کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ، لاہور میں سینئر پارٹی رہنمائوں کے ساتھ مشاورت میں پہلی بار زرداری نے پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کی کہانی سنا دی

پیر اپریل 20:34

نواز شریف نے مجھے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکرائو کیلئے محاذ بنانے کا مشورہ ..
آسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) سابق صدر آصف علی زرداری نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے انھیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کے لیے محاذ بنانے کا مشورہ دیا تھا مگر جب انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکر لی تو نوازشریف نے ان کے ساتھ ہاتھ کردیا اور خود اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا اس لیے اب وہ کسی صورت نوازشریف کے ساتھ ہاتھ نہیں ملائیں گے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کار میں بہتری کے لیے وہ کوشاں ہیں کیونکہ۔

ماضی میں انھیں مقتدر اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی۔بھاری قیمت ادا کرنا پڑی زرایع کے مطابق آصف علی زرداری نے لاہور میں پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کے ساتھ مشاورت میں پہلی بار پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کی۔

(جاری ہے)

کہانی سنائی اور کئی رازوں سے پردہ اٹھایا اور کہا۔کہ۔وہ۔سابق صدر مشرف کا ٹرائل کرنے کے لیے تعاون کر رہے تھے مگر نواز حکومت نے انھیں بیرون ملک بھجوا دیا۔

ذرائع کیمطابق آصف زرداری نے نوازشریف سے دوریوں کے راز کھولتے ہوئے بتایا کہ نوازشریف نے مجھے ہرموقع پراسٹیبلشمنٹ سے لڑاکرخودہاتھ ملایا، میں نے مشرف کے مواخذے کااعلان کیا تو نوازشریف پیچھے ہٹ گئے۔ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے کہا کہ نوازشریف نے پرویز مشرف پرغداری کا مقدمہ بنایا تو ہم نے ساتھ دیا، نواز شریف نے یقین دلوایا وہ پرویزمشرف کوجانے نہیں دیں گے، میں نے مشرف کو جانے نہ دینے کا بیان دیا تو نوازشریف نے انہیں باہر بھجوادیا، پتا چلا نوازشریف مجھے یقین دلوانے سے پہلے مشرف پر ڈیل کرچکے تھے۔

ذرائع کے مطابق سابق صدر کا کہنا تھا کہ اینٹ سے اینٹ والا بیان بھی نوازشریف کی ایسی ہی چال میں آکر دیا تھا۔ آصف زرداری نے کہا کہ میرے بیان کا فائدہ لیکر نوازشریف نے راحیل شریف سے معاملات سیدھیکرنیکی کوشش کی، نوازشریف اپنے قریبی افسر فواد حسن فواد کے ذریعے مجھے بہکاتے رہے، ہم نوازشریف کو جتنا بھولا سمجھتے ہیں وہ کہیں زیادہ چالاک اور موقع پرست ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت،، آئین اور سویلین بالادستی کی نیت سے ہاں میں ہاں ملاتے رہے، ہم سیاست اور نوازشریف تجارت کرتے رہے، انہوں نے ہمیں ہر موقع پر بیچا اور ہم ہر بار ان کے دھوکے میں آئے۔پی پی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ میں سیاست سے ہٹ کر نوازشریف سے سماجی تعلقات رکھنا چاہ رہا تھا، نواز شریف نے میری نیک نیتی کا فائدہ اٹھایا، سندھ میں نیب اور دیگر اداروں سے کارروائیاں بھی نوازشریف کے کہنے پر ہوئیں، نواز شریف اب بھگتیں،اب کسی صورت ہاتھ نہیں ملاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ شروع کے چند ماہ۔ںوازشریف ان کے ساتھ بہتر انداز میں چلتے رہے مگر بعد ازاں انہوں نے اپنا رنگ بدل لیا اور ہمارے خلاف چالیں چلنا شروع کر دیں زرایع کے مطابق آصف زرداری کا۔کہنا تھا کہ۔۔نوازشریف کسی صورت اب اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ نہیں اور ہم۔نے بھی عوامی۔مزاج کی سیاست کا فیصلہ کیا ہے وہ کسی بھی ادارے پر بے جا تنقید کرکے پیپلز پارٹی کی پوزیشن خراب نہیں کرنا چاہتے