بلوچستان ہائیکورٹ نے سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر عائد پابندی کیخلاف

دائرسرفرازبگٹی کی درخواست نمٹا دی

پیر اپریل 23:27

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس ظہیر الدین کاکڑ پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر عائد پابندی کے خلاف صوبائی وزیر داخلہ میر سرفرازبگٹی کی جانب سے دائر آئینی درخواست نمٹا دی ۔گزشتہ روز آئینی درخواست کی سماعت کے موقع پر وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ،وزیراعلیٰ بلوچستان کے پرنسپل سیکرٹری حافظ عبدالباسط ،ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان رئوف عطاء ایڈووکیٹ ،،الیکشن کمیشن کے نمائندے مہران خان ودیگر پیش ہوئے ۔

کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت ہے کہ اس معاملے پر اس سے ہی رجوع کیاجائے ۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن کے سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر پابندی کیخلاف الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کو سپریم کورٹ کی جانب سے معاملہ دیکھنے کا اختیار دیاگیاہے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل رئوف عطاء ایڈووکیٹ نے کہاکہ ڈویژنل بینچ اپنی حد تک درخواست کو دیکھ سکتی ہے توجسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ کیوں نہ اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کاانتظار کیاجائے بلکہ درخواست گزار بھی اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتاہے جس پر صوبائی وزیر داخلہ میر سرفرازبگٹی نے اپنی آئینی درخواست واپس لینے کاکہاتوعدالت نے درخواست کو نمٹادی۔