سندھ میں روزانہ 11 بچوں سے ذیادتی ہورہی ہے جو کہ ریاست کی نا اہلی ہے، چائلڈ رائیٹس موومنٹ

صائمہ جروار کیس میں پولیس کی عدم دلچسپی کی مذمت کرتے ہیں ، سی سی ٹی وی کیمروں کی تعداد کم ہے نظام کو مزید بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے

پیر اپریل 23:39

لاڑکانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) چائلڈ رائیٹس موومینٹ، جے یو آئی کے ضلعی امیر اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی جانب سے 9 سالہ بچی صائمہ جروار قتل میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف پریس کلب میں پریس کانفرنس کی گئی۔ چائلڈ رائیٹس موومینٹ کے رہنما کاشف بجیر نے بتایا کہ غیر سرکاری تنظیم ساحل کی انکشاف کشا رپورٹ کے مطابق سندھ میں روزانہ 11 بچوں سے ذیادتی ہورہی ہے جو کہ ریاست کی نا اہلی ہے، صائمہ کیس میں پولیس کی عدم دلچسپی کی مذمت کرتے ہیں ، شہر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی تعداد کم ہے اس نظام کو مزید بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے جن کی مدد سے ملزمان تک آسانی سے پہنچا جا سکتا تھا یہ ایک بچی کا اشو نہیں ہے جو ہمیں خاموشی سے بیٹھ جانا چاہیے، یہ وقت تبدیلی لانے والوں کے لیے سوچنے کا ہے کیونکہ یہاں کوئی ڈی این اے کی لیباریٹری یا جدید سیولیات موجود ہی نہیں ہیں، جے یو آئی رہنما ناصر محمود سومرو کا کہنا تھا کہ یہ عالمی اشو نا بن جائے جس کو حکمران چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ زیادتی ایک بچی سے نہیں بلکہ پوری سندھ کی بچیوں سے ذیادتی ہے، جس پر انسانیت شرما گئی ہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ آٹھ دن گزر گئے ایک دکان بند نہیں ہوا حکمران تک نہیں سمجتے جب تک ان کو مجبور نہیں کیا جائے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صائمہ جروار کا مسئلا حل ہی نہیں ہوا تو ایک اور واقعہ رونما ہوا ہے، 5 سال کی بچی ایمان کے ساتھ زبردستی کی گئی ہے لیکن جوابداروں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس موقع پر مقتول بچی کے چچا سردار جروار کا کہنا تھا کہ ہمارے آواز کو لالچ دیکر دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں بچی کے قتل میں حکومت سے انصاف ملنے کی امید نہیں ہے، بہت سی تنظیں ہمارے ساتھ ہیں اور انشائ اللہ ہم قاتلوں کو قانون کے کٹگہرے میں لانے میں کامیاب رہنگے لیکن حکومت کا کوئی نمائندہ ہمارے پاس نہیں آیا جو کہ تشویشناک صورتحال ضرور ہے۔