عمرکوٹ میں 13روز گذر جانے کے بعد بھی کم عمر دلہن امیشا کی پراسرار گمشدگی کا معمہ حل نہیں ہو سکا

امیشا واقعے میں گرفتار سیف اللہ پلی اور فیض اللہ پلی کی گرفتاری ظاہر نہ کرنے کے خلاف پلی برادری کا شدید احتجاج کا سلسلہ جاری

پیر اپریل 23:45

عمرکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) عمرکوٹ میں 13روز گذر جانے کے بعد بھی کم عمر دلہن امیشا کی پراسرار گمشدگی کا معمہ حل نہیں ہو سکا۔ امیشا واقعے میں گرفتار سیف اللہ پلی اور فیض اللہ پلی کی گرفتاری کے اور پولیس کی جانب سے گرفتاری ظاہر نہ کرنے کے خلاف پلی برادری کا شدید احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف امیشا کی پراسرار گمشدگی کے بعد عمرکوٹ کی سول سوسائٹی بھی میدان میں آگئی۔

امیشا کی فوری بازیابی کا مطالبہ کردیا۔ پلی برادری نے پولیس کی تفتیشی ٹیم میں شامل انسپکٹر سید الطاف علی شاہ پر گہرے تحفظات ظاہر کردیے۔ سیف اللہ اور فیض اللہ کو سیاسی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ عبدالقادر پلی روشن پلی جاوید دلوانی وغیرہ کی قیادت میں پریس کلب عمرکوٹ کے سامنے بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پلی برادری کے سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے عثمان راجڑ نور احمد کپری اللہ بچایو وغیرہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امیشا واقعے سے سیف اللہ اور فیض اللہ کا کوئی تعلق نہیں ہے عمرکوٹ پولیس نے امیشا کیس میں سیف اللہ اور فیض اللہ کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے رہنماں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سیف اللہ اور فیض اللہ کی جان کو خطرہ ہے ہمیں انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سیف اللہ اور فیض اللہ پلی کو فوری طور پر آزاد کیا جائے اور اگر ان پر کوئی کیس وغیرہ درج ہے تو کیس ظاہر کیا جائے ورنہ ہم وسیع اجتجاج دھرنا اور شڑبند ہڑتال کرانے پر مجبور ہونگے آج پریس کلب میں سول سوسائٹی کے رہنماں میرحسن آریسر عبداللہ کھوسہ حلیم سومرو غلام مصطفی کھوسہ نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم امیشا واقعے پر ایس ایس پی کی مقرر کردہ تفتیشی ٹیم کو ہم مستردکرتے ہیں سول سوسائٹی کے رہنمائوں نے کہا کہ وومین پولیس جب کم عمر امیشا کو پولیس اسٹیشن لائی تو تمام قانونی تقاضے پورے کیے بغیر امیشا کو ورثا کے حوالے کردیا۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ معاملے کو سنجیدگی کیساتھ لیکر امیشا کو بازیاب کرایا جائے ورنہ معاملہ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔ دوسری طرف امیشا واقعے کو تیرہ روز گزر جانے کے باوجود عمرکوٹ پولیس نہ ہی کم عمر دلہن امیشا کی پراسرار گمشدگی کا معمہ حل کرسکی ہے۔ آئی جی سندھ نے بھی واقعے کا نوٹس لے رکھا ہے۔ اس امیشا کیس میں ایس ایس پی عمرکوٹ نے غفلت برتنے پر وومین پولیس عمرکوٹ کی ایس ایچ او خوش بخت اعوان کو معطل کردیا تھا۔

تفتیشی ٹیم میں انسپکٹر سید الطاف علی شاہ کو شامل کرنے پر پلی برادری نے اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے حاجی فتح محمد علی رضا لاشاری اور عبدالقادر شاہ نواز نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انسپکٹر سید الطاف علی شاہ کے رشتے دار کے پاس امیشا کو چھپایا ہوا ہے۔ مظاہرین نے نئے آنے والے ایس ایس پی عمرکوٹ اعجاز احمد شیخ سے مطالبہ کیا کہ تفتیشی ٹیم میں سے سید الطاف شاہ کوہٹا کر دوسرا کوئی غیر جانبدار پولیس آفیسر شامل کیاجائے اور امیشا کی والدہ نے امیشا کی پراسرار گمشدگی کے خلاف ڈسٹرکٹ سیشن جج عمرکوٹ کی عدالت میں پٹیشن داخل کررکھی ہے۔