پاکستان مسلم لیگ (ن) آئندہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی‘ مسلم لیگ (ن) نے جو پانچ سال کام کیا عوام اس کے تحت ووٹ دینگے‘ ملک بھر میں مسلم لیگ (ن) کے بہترین کارکن اور امیدوار ہیں‘ وزیراعظم کیلئے حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے نام پیش ہوں گے‘ نگران حکومت ایک آئینی تقاضا ہے جس کا فیصلہ مشاورت سے ہوگا

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا پی ٹی وی کو انٹرویو

جمعہ مئی 02:10

اسلام آباد ۔ 3 مئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آئندہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی، مسلم لیگ (ن) نے جو پانچ سال کام کیا عوام اس کے تحت ووٹ دینگے، ملک بھر میں مسلم لیگ (ن) کے بہترین کارکن اور امیدوار ہیں۔ جمعرات کو پی ٹی وی کو دیئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے سے ابھی تک سابق وزیراعظم نواز شریف نے مجھے کبھی کوئی ڈکٹیشں نہیں دی ہے‘ حکومت قومی ترقی کے اپنی نقطہ نظر پر قائم ہے۔

نگران وزیراعظم کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم کیلئے حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے نام پیش ہوں گے‘ نگران حکومت ایک آئینی تقاضا ہے جس کا فیصلہ مشاورت سے ہو گا۔

(جاری ہے)

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کھینچا تانی سے نقصان ملک و قوم کا ہوتا ہے نہ کہ سیاسی پارٹیوں کا‘ عام انتخابات وقت پر ہونگے اور عوام فیصلہ کریں گے‘ مسلم لیگ (ن) نے پانچ سال کام کیا عوام اس کے تحت ووٹ دینگے‘ حکومت میں آنے والوں کو عوام نے پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہوتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے 11 نکاتی ایجنڈا کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عمران خان کے 11 نکات کی کوئی حیثیت نہیں، عملی کارنامہ دکھائیں‘ ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے خیبرپختونخوا میں ان نکات پر کتنا عملدرآمد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نکات پیش کرنے کی بجائے عملی اقدامات کرتی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2018-19ء کیلئے بجٹ دے دیا ہے تاہم اگلی حکومت جائزہ لے کر اس میں تبدیلی کر سکتی ہے‘ غیر مستحکم صورتحال سے ترقی کی رفتار پر منفی اثر ہوتا ہے‘ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے برآمدات میں اضافے کیلئے متعدد اقدامات کئے‘ مسلم لیگ (ن) شرح نمو میں اضافے کیلئے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم حد میں رہ کر بیرونی قرضے لے رہے ہیں‘ تمام ممالک قرضوں پر چلتے ہیں، قرضوں کا مقصد قومی ترقی ہونا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزراء اعلیٰ کا اجلاس سے بائیکاٹ سیاسی تھا‘ وفاقی حکومت ریونیو کا 58 فیصد صوبوں کو دیتی ہے، 42 فیصد خود رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سستی شہرت کیلئے حقائق کے منافی بات نہیں کرنی چاہئے‘ جمہوریت میں ہر کسی کو رائے دینے کا حق ہے‘ مسلم لیگ (ن) نے کبھی آئین و قانون کے خلاف کام نہیں کیا‘ ہر فورم پر تحفظات کا اظہار کیا اپنی ذمہ داری ادا کی‘ کچھ ایسے فیصلے ہوئے جن سے مطمئن نہیں تحفظات ظاہر کئے۔

افغانستان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن کیلئے افغان صدر نے پاکستانی موقف کی تائید کی ہے‘ افغانستان اب پاکستان کے موقف کی تائید کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دیگر ملکوں سے نسبتاً کم ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا‘ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہئے‘ کشمیر کے معاملات کشمیریوں نے ہی حل کرنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کا چارج میرے پاس ہے‘ امور خارجہ میں موجودہ حکومت نے بہت سے چیلنجز کا سامنا کیا ہے‘ پاکستان دنیا میں سفارتی تنہائی کا شکار نہیں ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں۔ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ فاٹا کا انضمام مقامی لوگوں کی رائے کے مطابق کیا جائے گا‘ فاٹا کی قومی دھارے میں شمولیت اتفاق رائے سے ہونی چاہئے‘ فاٹا کے ترقیاتی کاموں کیلئے حکومت نے منصوبہ بنا کر دے دیا ہے‘ فاٹا کا قومی دھارے میں انضمام جلد بازی کا کام نہیں ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کے باعث بجلی کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے‘ بجلی چوری کے باعث اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے‘ صوبائی حکومتوں اور عوام کے تعاون کے بغیر بجلی چوری نہیں رک سکتی‘ موجودہ حکومت نے 10 ہزار 400 میگاواٹ بجلی نظام میں شامل کی۔