قومی اسمبلی ،ایم کیو ایم کے وسیم حسین کی سندھ حکومت پر شدید تنقید ، پیپلز پارٹی کے ارکان سے تلخ جملوں کا تبادلہ

18ویں ترمیم کی صورت میں عوام پر ظلم کیا گیا مگرفصوبوں نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کئے، عوام 18ویں ترمیم پر دستخط کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریگی،صوبائی حکومت نے سندھ کے شہری علاقوں سے روٹی، کپڑا، مکان چھین لیا ہے، سندھ میں غریب عوام کو روٹی، کپڑا، مکان اور صحت کی سہولیات میسر نہیں،آپ کراچی اور حیدرآبادمیں آ کر اس کے وارث نہ بنو، آپ لاڑکانہ کے وارث بنو، ہم مہاجر قوم کے حقوق کی حفاظت کیلئے زندہ ہیں مرے نہیں ہیں، چیف جسٹس اور نیب سندھ میں بھی جا کر وہاں کے حالات دیکھیں، وسیم حسین کی جذباتی تقریر کے دوران خود کو آگ لگانے کی دھمکی اب اپ مجھے اپنی عوام کیلئے بات کرنے بھی نہیں دیں گے تو کیا میں آگ لگالوں میں خود کو آگ لگا کر دکھا بھی دئوں گا،ڈپٹی سپیکر کی جانب سے بجٹ پر بحث کے مقررہ ٹائم پورا ہونے پر وسیم حسین کا مائیک بند کرنے پر وسیم حسین کی دھمکی

جمعہ مئی 18:59

قومی اسمبلی ،ایم کیو ایم کے وسیم حسین کی سندھ حکومت پر شدید تنقید ، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سید وسیم حسین نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کی جس پر پیپلز پارٹی کے ارکان اور وسیم حسین میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ رکن سید وسیم حسین نے جذباتی تقریر کے دوران خود کو آگ لگانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کی صورت میں عوام پر ظلم کیا گیا مگرفصوبوں نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کئے، عوام 18ویں ترمیم پر دستخط کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریگی،صوبائی حکومت نے سندھ کے شہری علاقوں سے روٹی، کپڑا، مکان چھین لیا ہے، سندھ میں غریب عوام کو روٹی، کپڑا، مکان اور صحت کی سہولیات میسر نہیں،آپ کراچی اور حیدرآبادمیں آ کر اس کے وارث نہ بنو، آپ لاڑکانہ کے وارث بنو، ہم مہاجر قوم کے حقوق کی حفاظت کیلئے زندہ ہیں مرے نہیں ہیں، چیف جسٹس اور نیب سندھ میں بھی جا کر وہاں کے حالات دیکھیں،ڈپٹی سپیکر کی جانب سے بجٹ پر بحث کے مقررہ ٹائم پورا ہونے پر وسیم حسین کا مائیک بند کر دیا جس پروسیم حسین نے کہا کہ اب اپ مجھے اپنی عوام کیلئے بات کرنے بھی نہیں دیں گے تو کیا میں آگ لگالوں میں خود کو آگ لگا کر دکھا بھی دئوں گا،وسیم حسین کی تقریر کے دوران پیپلز پارٹی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور جھوٹا جھوٹا کے نعرے لگائے۔

(جاری ہے)

جمعہ کو قومی اسمبلی میں مالی سال 2018-19 کے بجٹ پر عام بحث کے دوران ایم کیو ایم کے وسیم حسین نے کہا کہ غریب آدمی کو بجٹ سے کچھ لینا دینا نہیں، آج سپریم کورٹ موبائل کارڈ پر ٹیکس پر نوٹس لے رہی ہے، چیف جسٹس دودھ کی دکانوں پر جا رہے ہیں تو پھر حکومت اور اپوزیشن کیا کررہی ہی18ویں ترمیم کے تحت اختیارات صوبوں کو دیئے گئے مگر صوبوں نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کئے، عوام کبھی ان لوگوں کو معاف نہیں کرے گی جن لوگوں نے 18ویں ترمیم پر دستخط کئے،18ویں ترمیم کی صورت میں عوام پر ظلم کیا گیا، ملک میں کہیں بھی صاف پینے کا پانی دستیاب نہیں، سندھ میں کسی ایک ڈسٹرکٹ میں صحت کی سہولیات نہیں ہیں۔

چیف جسٹس صاحب کو کیا سندھ کا کوئی ضلع نظر نہیں آرہا، حیدر آباد سے نوابشاہ تک 200روپے فی ایکڑ ریٹ پر زمین لیز پر دے دی گئی، کیا نیب اور سپریم کورٹ کو نظر نہیں آرہا ۔ سندھ میں غریب عوام کو روٹی، کپڑا، مکان اور صحت کی سہولیات میسر نہیں،آپ کراچی اور حیدرآبادمیں آ کر اس کے وارث نہ بنو، آپ لاڑکانہ کے وارث بنو، ہم مہاجر قوم کے حقوق کی حفاظت کیلئے زندہ ہیں مرے نہیں ہیں، چیف جسٹس اور چیئرمین نیب سندھ میں بھی جا کر وہاں کے حالات دیکھیں، صوبائی حکومت نے سندھ کے شہری علاقوں سے روٹی، کپڑا، مکان چھین لیا ہے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور جھوٹا جھوٹا کے نعرے لگائے۔ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے وسیم حسین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ تقریر کیلئے مختص ٹائم ختم ہو گیا ہے اپ اب بیٹھ جائیں،جس پر وسیم حسین نے کہا کہ اب اپ مجھے اپنی عوام کیلئے بات کرنے بھی نہیں دیں گے تو کیا میں آگ لگالوں میں خود کو آگ لگا کر دکھا بھی دئوں گا،5سال سے حیدر آباد میں یونیورسٹی اور میڈیکل کالج مانگ رہا ہوں مگر اٹھارہویں ترمیم بیچ میں آ گئی، 70سالوں میں جن لوگوں نے ملک کو لوٹا انہیں کو ٹاک شوز میں بٹھایا جاتا ہے، اگر ٹاک شو کرنے ہی ہیں تو غریب عوام پر کرو،2018میں پیپلز پارٹی کا وزیراعلیٰ نہیں ہو گا، الطاف حسین اورنواز شریف مائنس ہو گئے ،اب ہوا جلد سندھ کی طرف آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں رہنے والے پنجابی ،اسی طرح دوسرے صوبوں میں رہنے والے خود کو پہلے سندھی ،بلوچی اور پختون کہتے ہیں بعد میں خود کو پاکستانی کہتے ہیں،اگر ایسا ہی ہے تو میں خود کو مہاجر کہتا ہوں۔چاروں صوبوں میں لسانیت کی بنیاد پر ووٹ لیا جاتا ہے،لسانیت کو ختم کیا جائے تو ہم بھی خود کو پہلے مہاجر نہیں پاکستانی کہوں گا،،پاکستان ہمارے خون میں بستا ہے۔

ہم کسی وڈیرے کا پاکستان نہیں بننے دیں گیپاکستان قائد اعظم کا تھا اور ہمیشہ رہے گا۔انہوں نے کہا کہ میری چیف جسٹس اور چیئرمین نیب سے درخواست ہے کہ سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ سندھ کا دورہ کریں،وڈیرے اور جاگیر دار پاکستان سے پیسہ لوٹ کر باہر لیکر جاتے ہیں ان کو پکڑیں،باہر ڈالر لیکر جانے والی ایان علی کو پکڑیں اور تحقیقات کروائیں ان کے پیچھے کون ہے،عزیر بلوچ سے بھی شفاف تحقیقات کی جائیں۔