انتخابات کا بلاجواز التوا جمہوریت کے خلاف جلتی پر تیل کا کام کرے گا، میاں افتخار حسین

موجودہ دور میں پختونوں کے اتحاد و اتفاق کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ، شناختی کارڈز کی فیسوں میں اضافہ کر کے عوام پر خصوصاً ووٹ ڈالنے کے دروازے بند کئے جارہے ہیں،مرکزی جنرل سیکرٹری اے این پی

جمعہ مئی 23:54

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ انتخابات کا بلاجواز التوا ملک دشمنی کے مترادف ہو گا اور اگر ایسا ہوا تو اس کا نقصان ملک کو ہو گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کی65ڈاگ بیسود میں ملک سہراب خان کی اے این پی میں شمولیت کے حوالے سے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، ملک سہراب خان نے جرگہ قبول کرتے ہوئے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا تاہم باقاعدہ شمولیت عنقریب ایک جلسہ عام میں کی جائے گی، میاں افتخار حسین نے ملک سہراب خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ موجودہ دور میں پختونوں کے اتحاد و اتفاق کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ملک کی دیگر اقوام اپنے حقوق کیلئے متحد ہوتی جا رہی ہیں لہٰذا پختونوں کو چاہئے کہ اپنے حقوق اور اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے اے این پی کے پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں،انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو خطرات درپیش ہیں اور اگر ایسی صورتحال میں الیکشن ملتوی کئے گئے تو ملک خطرات سے دوچار ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ یہ باز گشت جہاں سے بھی اٹھی ہے اسے رد کیا جائے اور انتخابات کا وقت مقررہ پر انعقاد کرنے کیلئے الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے اپنا کردار ادا کریں، انہوں نے کہا کہ یہاں شناختی کارڈز کے حوالے سے پہلے عوام بے شمار مسائل کا شکار ہیں اور بلاک کئے جانے والے شناختی کارڈز کی بحالی کاکام مکمل نہیں ہو پا رہا ،انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈز کی فیسوں میں اضافہ کر کے پختون عوام پر خصوصاً ووٹ ڈالنے کے دروازے بند کئے جارہے ہیں جو انتہائی نامناسب اقدام ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ قومی شناختی کارڈز فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری اور ملک کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن موجودہ حکومت کا فیسوں میں بے تحاشا اضافے سے ایسے لگ رہا ہے کہ حکومت نے اسے کاروبار بنادیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی فیسوں میں اضافے کو یکسر مسترد کرتی ہے اور افسوس کا اظہار کرتی ہے کہ حکومت نے بنیادی سہولت بہم پہنچانے کے بجائے غریب عوام کیلئے اس کے حصول کو ناممکن اور مشکل بنادیا ہیکیونکہ اس کا براہ راست اثر غریب عوام پر پڑے گا،انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور تاریخ میں یہ واحد حکومت تھی جو کچھ بھی ڈیلیور نہ کر سکی ، انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر تبدیلی کے جو وعدے اور دعوے نظر آئے ان کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکمرانوں کی عاقبت نا اندیشی کے باعث عوام ان سے متنفر ہو چکے ہیں اور آنے والے الیکشن میں وہ اے این پی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کریں گے، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو صوبائی اور مرکزی ھکومت نے تعصب کا نشانہ بنایا اور اسی تعصبانہ رویے کی وجہ سے پختونخوا کو سی پیک سے بھی محروم کر دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ مغربی اکنامک کوریڈور پختونوں کیلئے معاشی انقلاب تھا جو کسی سے برداشت نہیں پا رہا تھا اسی لئے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کو چائنہ پنجاب اکنامک کوریڈور بنا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پختونوں کے حقوق کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔