وزیر داخلہ پر حملہ افسوسناک ، سپریم کورٹ کے حکم پر ان سے سکیورٹی واپس لی گئی تھی، نواز شریف

عوام جاگ چکے ہیں۔ کسی قیمت پر الیکشن ملتوی نہیں ہونے دیں گے، پانچ سالوںمیں صرف دو پیشیاں بھگتنے والوں کو بری ہوتا دیکھ کر میں بھی بریت کی درخواست دینے پر غور کر رہا ہوں ، نیب کو غیر موثر کرنے کے معاملے پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے بات کی تھی لیکن شکوک و شبہات سے بچنے کے لئے عملدرآمد نہیں کیا، الیکشن میں کامیاب ہوئے تو نیا نظام ضرور آئے گا،میڈیا سے غیر رسمی گفتگو

پیر مئی 15:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام جاگ چکے ہیں۔ کسی قیمت پر الیکشن ملتوی نہیں ہونے دیں گے ۔ وزیر داخلہ پر حملہ افسوسناک ہے سپریم کورٹ کے حکم پر ان سے سکیورٹی واپس لی گئی تھی جبکہ 2013 کے انتخابات جتوانے کے الزام پر فوج عمران خان سے پوچھے اور پانچ سالوںمیں صرف دو پیشیاں بھگتنے والوں کو بری ہوتا دیکھ کر میں بھی بریت کی درخواست دینے پر غور کر رہا ہوں کیونکہ میں تو 62 پیشیاں بھگت چکا ہوں اگر کیس میں جان ہوتی تو آٹھ ماہ کی بجائے آٹھ ہفتوں میں فیصلہ آ جاتا ۔

تفصیلات کے مطابق پیر کے روز احتساب عدالت میں 62 ویں بار پیشی کے موقع پر سابق وزیر اعظم نواز شریف نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احسن اقبال اور دیگر سیاسی قائدین سے سکیورٹی سپریم کورٹ کے حکم پر واپس لی گئی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے انہوں نے کہا کہ میں عدالت میں 62 پیشیاں بھگت چکا ہوں لیکن کیس میں سے کچھ نہیں نکلا اگر نیب کے پاس کوئی ثبوت ہوتا تو آٹھ ماہ کی بجائے آٹھ ہفتوں میں فیصلہ ہو جاتا جبکہ میں نے نیب کو غیر موثر کرنے کے معاملے پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے بات کی تھی لیکن شکوک و شبہات سے بچنے کے لئے عملدرآمد نہیں کیا مگر ا یک بار ہمارے کیس کا فیصلہ آ جائے پھر نیب کو بھی دیکھ لیں گے ۔

(جاری ہے)

نواز شریف نے کہا کہ میں ہی سب کے نشانے پر ہوں لیکن کسی کو یاد نہیں کہ میں نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا تھا اس ملک سے دہشتگردی ختم کی اور کراچی کو پرامن بنا کر سی پیک جیسا منصوبہ ملک میں لایا تھا ۔میں اس پر کوئی میڈل نہیں مانگتا لیکن ستائش تو ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف میرے وفادار بھائی اور پارٹی کا رکن ہیں میری مرضی کے بغیر فیصلہ کرتے ہیں نہ کوئی راستہ تلاش کرتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ مجھے جیل بھیجنا چاہتے ہیں ۔

اخبارات میں پڑھتا رہتا ہوں لیکن مملکت کے نظام کسی ضابطے کے تحت چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں کامیاب ہوئے تو نیا نظام ضرور آئے گا کیونکہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ہر فرد کی زبان پر ہے اور ضمنی انتخابات میں عوامی موڈ دیکھ لیں جبکہ لودھراں کا الیکشن بھی عدالتی فیصلے کے بعد ہی ہوا تھا جس میں ہماری جماعت کامیاب ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2013 کا الیکشن جتوانے کے بیان پر فوج عمران خان سے جواب طلب کرے ہم ووٹ کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے پانچ سالوں میں دو یا تین پیشیاں بھگتیں انہیں بری ہوتا دیکھ کر میں بھی بربریت کی درخواست دینے کا سوچ رہا ہوں ۔ ۔