ہٹیاں بالا ‘ کڑلی جھیل فلڈ متاثرین کے ساتھ ایک بار پھر ‘با اثر طبقہ اور انتظامیہ ہاتھ کر ‘گئی مستحق افراد معاوضوں سے محروم

ہفتہ مئی 16:40

ہٹیاں بالا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) کڑلی جھیل فلڈ متاثرین کے ساتھ ایک بار پھر با اثر طبقہ اور انتظامیہ ہاتھ کر گئی مستحق افراد معاوضوں سے محروم جبکہ جن کے مکان اس کڑلی جھیل فلڈ میں متاثر بھی نہیں ہوئے وہ بھی معاوضے لے گئے مستحق بعچارے اس وقت تک کبھی ڈچ آفس کے چکر لگاتے ہیں تو کھبی ایوان وزیراعظم کے گیٹ سے بے عزت ہو کر واپس لوٹتے ہیں کڑلی جھیل جو زلزلہ 2005کے تباہ کن حادثہ کے باعث بنی تھی 2010جب راجہ محمد فاروق حیدر خان وزیر اعظم تھے ٹوٹ گئی تھی جس کی وجہ سے بڑی تباہی آئی تھی اس وقت کے اعداد شمار کے مطابق اس جھیل کی وجہ سے 166گھر اس کی لپیٹ میں آئے تھے ان خاندانوں نے مشکل سے اپنی جانیں بچائی تھی جبکہ ان کے مکان جمع پونجی سب کچھ اس کی نظر ہو گیا تھا دس سال کے بعد ایک بار پھر راجہ فاروق حیدر خٓن وزیر اعظم بنے تو انہوں نے متاثرین کے ساتھ بڑی شفقت اور مہربانی کرتے ہوئے 1500000کے حساب سے متاثرین کو چیک دیئے اس رقم سے اگر دیکھا جائے متاثرین کے ضائع ہونے والے کپڑوں کی تلافی بھی نہیں ہو کتی وہ بے چار مکان کیا بنائیں گئے مگر ظلم کی بات یع ھے کہ متاثرین کی لسٹ 166سے بڑھ کر 200کے قریب چلی گئی جبکہ ابتدائی لسٹ سے 9کے قریب مستحق متاثرین کو خارج کر دیا گیا ایسے افراد کے نام ڈال دیئے گئے جن کے مکان ہی نہیں تھے یا ان ک مکان جھیل کی زد میں ا،ْے ہی نہیں کئی دنوں سے وہ مستحق ،تاثرین ڈی سی آفس کے چکر لگا رہے ہیں مگر روز نئی امیدوں کے ساتھ انہیں واپس موڑ دیا جاتا ہے یہ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں آخر انصاف کہاں بکتا ہے وہ انصاف کے لئے کہاں جائیں اور وزیر اعظم کی گڈ گورننس پر لوگ ہنسیں یا روئیں