نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان پر ن لیگ میں گروپنگ

شریف خاندان میں بھی دراڑ پڑنے کا خدشہ ،حکومتی جماعت پر آئندہ الیکشن ہارنے کی تلوار لٹکنے لگی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 14:08

نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان پر ن لیگ میں گروپنگ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 مئی 2018ء) : سابق وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ بیان نے ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ نواز شریف کے اس بیان پر جہاں انہیں سیاسی حریفوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے وہیں پارٹی کے اندر بھی گروپنگ اور دھڑے بندی کا آغاز ہو گیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سابق وزیرا عظم نواز شریف کا بیان ن لیگ کے اندر واضح دھڑے بندی کا سبب بن رہا ہے۔

ن لیگ کے آٹھ وزرا سمیت اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد نے بھی نواز شریف کے بیان کو پاکستان کے ساتھ ساتھ پارٹی اور آئندہ انتخابات میں ن لیگ کی متوقع شکست کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق نواز شریف کے بیان پر سخت رد عمل سامنے آنے پر مریم نواز نے مختلف اراکین اسمبلی اور وزرا کو دفاع کت لیے کہا تو اس پر اکثر اراکین اسمبلی اور وزرا کو دفاع کے لیے کہا تو اس پر اکثر اراکین اسمبلی نے واضح طور پر انکار کر دیا جبکہ کئی ارکان نے تو حامی بھر کر بھی کسی ٹی وی پر بیان دینے کی بجائے اپنے موبائل فون بند کر دئے۔

(جاری ہے)

ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے شہباز شریف اور نواز شریف میں بھی اختلافات پیدا ہو رہے ہیں۔ پرویز رشید ، مشاہد اللہ خان ، مریم اورنگزیب اور مریم نواز سمیت ن لیگ کے میڈیا سیل کے پیارے چند اراکین اسمبلی نے میاں نواز شریف کو واضح طور پر کہا کہ میاں صاحب آپ اس معاملے پر ڈٹے رہیں اور آپ کی طرف سے کوئی لچک نہیں آنی چاہئیے۔ ذرائع نے کہا کہ میاں نواز شریف کے قریبی سمجھے جانے والے پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو وفاقی وزرا نے میاں نواز شریف کو کہا کہ وہ اس بیان کے حوالے سے اپنا رد عمل ضرور دیں اور اس رد عمل میں بھارت کے خلاف بات کریں اور کلبھوشن یادیو جو پاکستان میں کرتا رہا ہے اس حوالے سے بھی بات کریں۔

اس سے کسی حد تک کچھ چیزیں بیلنس ہو جائیں گی۔ ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف کے چند پیاروں نے اس سے واضح انکار کر دیا بلکہ یہ تک کہہ دیا کہ شہباز شریف بیان جاری کریں اور اسے ہی تردید یا موقف سمجھا جائے۔ مسلم لیگ ن کے مصدقہ ذرائع کے مطابق نواز شریف کے اس بیان کے بعد شدید ترین رد عمل سامنے آنے کے بعد ن لیگ کے وہ اراکین اسمبلی جن کے حوالے سے یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ پارٹی کو نہیں چھوڑیں گے ، نہ صرف انہوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق نواز شریف کے اس متنازعہ بیان کے بعد پارٹی کے ساتھ ساتھ شریف خاندان میں بھی اختلافات پید اہو گئے ہیں اور آئندہ الیکشن میں پارٹی کے الیکشن ہار جانے کی تلوار بھی سر پر لٹکنے لگی ہے۔