نامناسب رویے پر جن اراکین کو معطل کیا تھا ان کی سزا ختم کردی جائے ، ان کے بغیر ایوان سنسان لگتا ہے ،عبدالقدوس بزنجو

ہمارے پارلیمانی لیڈر اور میں نے معذرت کرلی ،معاملہ تھا جو ہوگیا ،آپ اس کو در گزر کردیں، ڈاکٹر حامد اچکزئی آپ کی جماعت کے اراکین مسلسل سیڑھیوں پر بیٹھ کر بہت کچھ بول رہے ہیں انہیں اس سے روکیں، اسپیکر بلوچستان اسمبلی حزب اختلاف کے اراکین کو اس معاملے کو عدالت میں نہیں لے کے جانا چا ہیے تھا،میر عاصم کرد گیلو

منگل مئی 23:29

نامناسب رویے پر جن اراکین کو معطل کیا تھا ان کی سزا ختم کردی جائے ، ان ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) اسپیکربلوچستان اسمبلی راحیلہ حمیددرانی کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی کااجلاس ،تو وزیراعلیٰ بلوچستان نے بحیثیت صوبائی وزیر خزانہ منظور شدہ اخراجات برائے ضمنی مزانیہ بابت مالی سال 2017-18 اور سالانہ میزانیہ برائے مالی سال2018-19ایوان میں پیش کیے ، وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ نامناسب رویے پر جن اراکین کو معطل کیا تھا ان کی سزا ختم کردی جائے، انہیں جتنی سزا دینے تھی اتنی کافی ہے ،ان کے بغیر ایوان سنسان لگتا ہے ۔

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے ڈاکٹر حامد اچکزئی نے کہا کہ ہمارے پارلیمانی لیڈر اور میں نے معذرت کرلی تھی ایک معاملہ تھا جو ہوگیا تھا اس آپ در گزر کردیں جس پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے کہا کہ آپ کی جماعت کے اراکین مسلسل سیڑھیوں پر بیٹھ کر بہت کچھ بول رہے ہیں انہیں اس سے روکیں وہ آپ کی بات مان لیں گے ۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر سی اینڈ ڈبلیو میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ حزب اختلاف کے اراکین کو معاملہ عدالت میں نہیں لے کے جانا چاہئے تھا ۔

عدالت نے بھی ان کی درخواست مسترد کردی ہے ۔۔ڈاکٹر حامد اچکزئی نے کہا کہ ہمارے اراکین کی غلطی پر انہیں معطل کردیا گیا ہے لیکن سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر رقیہ ہاشمی کے معاملے پر کیوں ایکشن نہیں لیا گیا یہ اراکین اسمبلی کا دہرا معیار ہے جس پر وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ڈاکٹر رقیہ ہاشمی ہماری بڑی ہیں ان کا معاملہ ایوان کے باہر ہوا ہے ایوان سے باہر کے معاملات ایوان سے باہر ہی دیکھیں گے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ انہیں معزز وزراء اور اراکین اسمبلی کو یہ بتاتے ہوئے انتہائی مسرت ہورہی ہے کہ 31مئی کو اسمبلی اپنی 5سالہ مد مکمل کررہی ہے آئینی طو رپر پارلیمانی سال میں اسمبلی کو 100دن مکمل کرنے ہوتے ہیں لیکن بلوچستان اسمبلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ایک سال میں ایک سو چار دن اجلاس کئے جس پر اراکین اسمبلی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

اسپیکر اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ پانچ سال کے دوران اسمبلی میں 385سوالات کے نوٹس دیئے گئے جن میں سے 318نمٹائیں گے اسمبلی میں 112تحریک التواء موصول ہوئیں جن میں سے 79پر بحث جبکہ 33کونمٹا دیا گیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں 7مارچ 2017کو توجہ دلائو نوٹس متعارف کرایا گیا اسمبلی نے 30توجہ دلائو نوٹس نمٹائیں ۔انہوں نے کہا کہ 36مختلف معاملات پر چیئرکی جانب سے رولنگ دی گئی جبکہ اسمبلی کے انضباط کار مجریہ 1974میں 51ترامیم بھی کی گئیں۔

اسپیکر نے مزید کہا کہ 5سالوں کے دوران کمیٹیوں نے بھی احسن کارکردگی دیکھائی جس پر وہ تمام کمیٹیوں کے چیئرپرسنز کی مشکور ہے اسمبلی کے اراکین اور اسٹاف کو مختلف غیر ملکی تربیاتی پروگراموں میں بھی بھیجا گیا جہاں انہوں نے مختلف امور پر تربیت حاصل کی انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے اجلاس کا بائیکاٹ اور واک آئوٹ کیا گیا جو ان کا جمہوری حق ہے لیکن اس کے لئے جو طریقہ کار اپنایا گیا کاغذات پھاڑے گئے غیر جمہوری ریمارکس دیئے گئے وہ اسمبلی کے شایان شان نہیں تھے انہوں نے کہا کہ سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نواب ثناء اللہ زہری اور موجودہ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے بھی ایوان میں بہترین کردار نبھایا میر عبدالقدوس بزنجو نے مختصر مدت میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیاہے جس کے تمام لوگ معترف ہیں انہوںنے اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال اور سابق اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع کی کارکردگی کو بھی بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اپوزیشن لیڈران نے ایوان میں بہترین طریقے سے حزب اختلاف کا کردار نبھایا انہوں نے کہا کہ پارلیمانی لیڈران خواتین اور اقلیتی اراکین نے بھی بہترین کارکردگی دیکھائی جس پر میں ان کی شکرگزار ہوں انہوںنے کہا کہ میں یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ یہ آخری اجلاس ہے مگر پھر بھی جتنے بھی وزراء اور اراکین اسمبلی تھے وہ تمام ایک خاندان کی مانند رہے اور ہمیں ایک دوسرے کو اچھے انداز میں خدا حافظ کہنا چاہئے ہم نے اچھی روایات قائم کی ہیں امید ہے آنیوالے ممبران بھی اس سلسلے کو جاری رکھیں گے اسپیکر نے کہا کہ رنجشیں اور گلے ہو جاتے ہیں ہمیں ان تمام چیزوں کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہئے انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے اسٹاف کی بھی شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے مشکل وقت میں بھی اسمبلی کو بہترین انداز میں چلایا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا بعد ازاں انہوںں نے گورنر کا حکم نامہ سناتے ہوئے اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا۔