نگران وزیر اعظم کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ذکا اشرف سر فہرست

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی رد نہیں کر سکتے۔ پیپلز پارٹی ذرائع کا دعویٰ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات مئی 12:07

نگران وزیر اعظم کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ذکا اشرف سر فہرست
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 مئی 2018ء) : نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے تاحال حکومت اور اپوزیشن میں معاملات زیر غور ہیں، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے مابین 5 سے زائد ملاقاتیں ہونے کے باوجود بھی تاحال نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہیں کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نگران وزیر اعظم کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ذکا اشرف کا نام سر فہرست ہے،اور پیپلز پارٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس نام کو رد نہیں کر سکتے۔

پیپلز پارٹی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حکومت جو بھی حربے استعمال کرے ، نگران وزیر اعظم کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے دیا گیا نام ہی فائنل قرارپائے گا۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ کو پارٹی قیادت نے ہدایت کی ہے کہ ہماری جانب سے نگران وزیر اعظم کے عہدے کے لیے جو نام پیش کیے گئے ہیں ان میں چوہدری ذکا اشرف سر فہرست ہیں، وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی ہماری اس تجویز کو رد نہیں کر سکتے، البتہ وہ نام فائنل کرنے میں وقت زیادہ کے سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق حکومت اور پیپلز پارٹی بھی اس نام پر متفق ہیں اور آخری لمحات میں ان کے نام کا اعلان بھی کر دیا جائے گا۔ دریں اثنا معلوم ہوا ہے کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ اس معاملے پر وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں آج پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چئیرمین آصف علی زرداری کو بریفنگ دیں گے۔

حال ہی میں انکشاف کیا گیا کہ نگران وزیر اعظم کے معاملے پر ڈیڈ لاک میں نواز شریف اور آصف علی زرداری کا ہاتھ ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ نگران وزیراعظم کے انتخاب میں ڈیڈ لاک کی صورتحال کے پیدا ہونے میں مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کا ہاتھ ہے کیونکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ خود سے کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز ہی نہیں ہیں، دونوں کو جو نام پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے دئے جاتے ہیں وہ چائے کے کپ پر تبادلہ خیال کے بعد ایک دوسرے تک پہنچا دیتے ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے مابین مبینہ طور پر معاہدہ ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نگران وزیراعظم پاکستان پیپلز پارٹی کا ہی ہو گا، اس ضمن میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔ جمہوریت کو قائم اور ڈی ریل نہ ہونے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ایک مرتبہ پھر سے میثاق جمہوریت کی طرز کا ایک خاموش معاہدہ کر لیا ہے ، پہلے معاہدے میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے لندن میں دستخط کیے تھے اور اب یہ خاموش معاہدہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے حکم پر وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر پرسن آصف علی زرداری کے حکم کے بعد کیا ، ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے تحت نگران وزیر اعظم پاکستان پیپلز پارٹی کا ہی ہو گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی جس شخص کا نام دے گی وزیرا عظم شاہد خاقان عباسسی اسی کو نگران وزیرا عظم نامزد کرنے کے پابند ہوں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے نگران وزیراعظم کے لیے تین نام تجویز کیے تھے۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے تجویز کردہ ناموں میں جسٹس ر ناصرالملک ، تصدق جیلانی اور عشرت حسین کے نام شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق ہمارے تینوں نام میرٹ پرپورا اترتے ہیں۔

نگران وزیراعظم کے لیے جن ناموں کا انتخاب کیا گیا یہ تینوں شخصیات نیک نامی اور اچھی شہرت کی حامل ہیں۔ ان تمام شخصیات نے اپنے عہدوں پربڑی ایمانداری کے ساتھ فرائض سرانجام دیے ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے بھی نگران وزیراعظم کے لیے جو نام اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو پیش کیے ہیں ان ناموں میں تصدق جیلانی اور عشرت حسین کے نام شامل ہیں ۔ اس طرح مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے ناموں میں دو نام تصدق جیلانی اور عشرت حسین ایسے ہیں جن پرمسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی میں اتفاق ممکن ہے۔جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ذکا اشرف اور جلیل عباس جیلانی کو نگران وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اُمیدوار نامزد کیا تھا۔