پارٹی کی 5 سالہ کارکردگی کو پیش کرنے سے روکنا غیر منصفانہ ہے‘جتنا مذاق طیارہ ہائی جیک کیس تھا اتنا ہی مضحکہ خیزیہ مقدمہ ہے-نوازشریف

ایون فیلڈ پراپرٹیز کی بینیفشل مالک نہیں ہوں‘ واجد ضیا قابل اعتبارگواہ نہیں اوروہ مجھے کیس میں ملوث کرنے کے لئے عدالت سے جھوٹ بھی بول سکتے ہیں۔مریم نواز

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مئی 12:42

پارٹی کی 5 سالہ کارکردگی کو پیش کرنے سے روکنا غیر منصفانہ ہے‘جتنا مذاق ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 مئی۔2018ء) سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے احتساب عدالت کو ایک بار پھر بتایا ہے کہ وہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کی بینیفشل مالک نہیں ہیں۔وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں جج محمد بشیر نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی، اس دوران سابق وزیراعظم نواز شریف،، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر پیش ہوئے، جہاں مریم نواز نے عدالتی سوالات پر اپنے جوابات ریکارڈ کرانے کا سلسلہ جاری رکھا۔

مریم نواز کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 342 کے تحت احتساب عدالت کے سوالات کے جواب دے رہی ہیں۔۔عدالت میں مریم نواز نے کہا کہ میں کبھی بھی نیلسن اور نیسکول کمپنیز یا ایون فیلڈ پراپرٹیز کی بینیفشل مالک نہیں تھی نہ ہی میں نے ان کمپنیوں یا ایون فیلڈ پراپرٹیز سے کوئی مالی فائدہ حاصل کیا۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کردہ ثبوتوں پر مریم نواز نے موسیک فونسیکا کے 22 جون 2012 کے خط اور مالی تحقیقاتی ایجنسیوں کی صداقت کو چیلینج کیا اور کہا کہ جے آئی ٹی نے وہ خط عدالت میں پیش نہیں کیا جو اس کے جواب میں لکھا گیا تھا۔

مریم نواز نے کہا کہ ان دستاویز کی قابل اطلاق قانون کے تحت نہیں کی گئی اور نہ ہی ان دستاویز کے مواد کی تصدیق کے لیے میری طرف سے جرح کیا گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان دستاویزات کو ثبوت کے طور پر نہیں پڑھا جاسکتا کیوںکہ یہ ان کے منصفانہ ٹرائل کے حق کو مسترد کرتا ہے۔شریف خاندان اور قطری شاہی خاندان کے درمیان تصفیہ کے معاملے پر مریم نواز نے کہا کہ وہ 1980 میں 25 فیصد گلف اسٹیل کے شیئرز کی فروخت اور اس کے بعد سرمایہ کاری سے متعلق کسی ٹرانسیکشن میں ملوث نہیں رہیں۔

انہوں نے کہا کہ باہمی قانونی مدد ( ایم ایل اے ) کے تحت دیے گیا جواب قابل اعتماد دستاویز نہیں اور نہ ہی یہ قابل قبول ثبوت ہے۔مریم نوازنے کہا کہ واجد ضیا قابل اعتبارگواہ نہیں اوروہ مجھے کیس میں ملوث کرنے کے لئے عدالت سے جھوٹ بھی بول سکتے ہیں‘ جے آئی ٹی رپورٹ میں صفحات 240 سے 290 تک کس نے اورکب شامل کئے انہیں اس کا علم نہیں۔ واجد ضیاءنے جورائے دی اورنتیجہ اخذ کیا وہ قابل قبول شہادت نہیں، انہوں نے اپنی رائے کے حق میں کوئی دستاویزبھی پیش نہیں کی۔

مریم نواز نے کہا کہ یہ درست ہے میں نے ٹرسٹ ڈیڈ کی اصل نوٹرائزاورتصدیق شدہ کاپی جمع کرائی، ورک شیٹ کی تیاری سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہوں کہ کوئی جعلی دستاویزات میں نے یا کسی اورنے جمع کرائیں، واجد ضیا ءنے یہ الزام تعصب اوربدنیتی کی وجہ سے لگایا، واجد ضیا ہمارے خلاف متعصب ہیں، یہ ثابت ہوچکا کہ واجد ضیا قابل اعتبارگواہ نہیں، وہ مجھے کیس میں ملوث کرنے کے لئے عدالت سے جھوٹ بھی بول سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے کسی بھی گواہ کو سوالنامہ نہ بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا جب کہ انہوں نے جرح کے دوران تسلیم کیا کہ جیرمی فری مین کو سوالنامہ بھیجا گیا۔

مریم نوازنے کہا کہ جے آئی ٹی اور تفتیشی افسر نے جان بوجھ کر منروا مینجمنٹ کو شامل تفتیش نہیں کیا تاکہ حقائق کو چھپایا جاسکے، اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ قطری شہزادہ میری ہدایت پر شامل تفتیش نہیں ہوا ،یہ بات ثابت ہو چکی کہ واجد ضیاءاور جے آئی ٹی نے جان بوجھ کربدنیتی سے حمد بن جاسم کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔ میری اطلاع کے مطابق حسین نواز نے فلیٹس نوے کی دہائی کے آغاز میں نہیں خریدے۔

انہوںنے کہا کہ خط لکھنے والے کوپیش کئے بغیرمجھے میری جرح کے حق سے محروم کیا گیا، جرح سے محروم اس لیے کیا گیا تا کہ خط کے متن کی تصدیق نہ کرسکوں۔۔مریم نواز نے کہا کہ خط پرانحصارشفاف ٹرائل کیخلاف ہوگا، خط کے متن کے ساتھ دستاویزات منسلک نہیں کی گئیں، خط کے متن سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔۔مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ شفاف تفتیش بھی شفاف ٹرائل کا حصہ ہے جس پرنیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہیں دفاع کے گواہ کے طورپربلا لیں، امجد پرویز نے کہا کہ دیکھنا پڑے گا غیر ملکی گواہ کو بلایا بھی جا سکتا ہے یا نہیں۔

احتساب عدالت نے مریم نوازسے گلف اسٹیل کے 25 فیصدشیئرز، التوفیق کیس سمجھوتہ، 12 ملین سیٹلمنٹ پرسوال کیا جس انہوں نے جواب دیا کہ میں اس معاملے میں کبھی شامل نہیں رہی۔۔مریم نواز نے مزیدکہا کہ 1980کے معاہدے سے بھی میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل سماعت میں سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 سوالات میں سے 84 کے جوابات ریکارڈ کرائے ہیں۔

گزشتہ سماعت میں انہوں نے کہا تھا کہ نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیوں کے حوالے سے ٹرسٹ ڈیڈ اصل تھی تاہم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے انہیں جان بوجھ کر غلط ثابت کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کا اور ان کے خاوند کیپٹن (ر) محمد صفدر کا نام ایون فیلڈ ریفرنس میں شامل کیا جاسکے۔دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے آئندہ عام انتخابات کے ضابطہ اخلاق میں موجود شرائط کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی 5 سالہ کارکردگی کو پیش کرنے سے روکنا غیر منصفانہ ہے۔

احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پارٹی کی جانب سے ضابطہ اخلاق پر رسمی طور پر تحفظات کا اظہار کرے گی، تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں سیاسی جماعتوں کو 5 سالہ کارکردگی پیش کرنے سے روکنا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو نشانہ بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے علاوہ کسی جماعت نے بھی عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا جبکہ ہماری وفاقی حکومت نے بجلی کا مسئلہ حل کیا، دہشت گردی ختم کی اور پاک چین اقتصادی راہداری ((سی پیک ) شروع کیا، اس کے علاوہ کراچی سے پشاور،، گوادر اور دیگر شہروں میں موٹرویز کا جال بچھایا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں کوئٹہ سے گوادر پہنچنے میں 2 دن لگتے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے منصوبوں کے باعث اب کوئٹہ میں ناشتہ اور گوادر میں دوپہر کا کھانا کھایا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے 5 برسوں میں کچھ نہیں کیا اور عمران خان نے عوامی، سماجی شعبے میں کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا، یہاں تک کہ بجلی کے حوالے سے بھی 5 سال میں کے پی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا۔

نگراں وزیر اعظم کے معاملے پر نواز شریف نے کہا کہ ہم نے نگراں وزیر اعظم کے لیے بہت مناسب افراد کے نام دیے ہیں کیونکہ ہم ایسے لوگوں کے نام سامنے نہیں لانا چاہتے جو عوام کو قبول نہیں ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کا معاملہ نہیں بلکہ ایسا نام ہونا چاہیے جو بڑے پیمانے پر قابل قبول ہونا۔۔نواز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا نگراں وزیر اعلیٰ تحریک انصاف کے سینیٹر کے بھائی کو نامزد کیا گیا یہ تو بلی سے دودھ کی رکھ والی کرانا اور اندھا بانٹے ریوڑیاں جیسا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کیس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مقدمہ اور 1999 میں طیارہ ہائی جیکنگ کا کیس ایک جیسا ہی ہے۔ نوازشریف نے کہا کہ فتح میرے بیانیے اور موقف کا نصیب ہوگی، فتح کے علاوہ دوسری منزل ہی کوئی نہیں ہے۔ جتنا مذاق طیارہ ہائی جیک کیس تھا اتنا ہی مضحکہ خیزیہ مقدمہ ہے، نہ قوم طیارہ ہائی جیک کیس کو مانتی ہے نہ ہی اس کیس کو مانتی ہے ا لیکشن کمیشن نے جو ضابطہ اخلاق جاری کیا اس پرلاہورجا کربات کروں گا۔