تحریک انصاف نے ٹکٹ دینے کیلئے علی محمد خان کے سامنے بڑی شرط رکھ دی

علی محمد خان کو تاحال پارٹی کی جانب سے ٹکٹ نہیں دیا گیا، ٹکٹ حلقے میں کروائے جانے والے سروے سے مشروط کر دیا گیا

muhammad ali محمد علی ہفتہ جون 22:09

تحریک انصاف نے ٹکٹ دینے کیلئے علی محمد خان کے سامنے بڑی شرط رکھ دی
مردان (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 جون 2018ء) تحریک انصاف نے ٹکٹ دینے کیلئے علی محمد خان کے سامنے بڑی شرط رکھ دی۔ علی محمد خان کو تاحال پارٹی کی جانب سے ٹکٹ نہیں دیا گیا، ٹکٹ حلقے میں کروائے جانے والے سروے سے مشروط کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے دیرینہ کارکن، رہنما اور سابق ایم این اے علی محمد خان کو تاحال ٹکٹ نہ دیے جانے کے حوالے سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر خاصا شور مچا ہے۔

تحریک انصاف کے کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ علی محمد خان ایک نظریاتی کارکن ہیں اور انتخابی سیاست کا تجربہ بھی رکھتے ہیں، اس لیے انہیں ٹکٹ ضرور دیا جائے۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے ٹکٹ دینے کیلئے علی محمد خان کے سامنے بڑی شرط رکھ دی۔ علی محمد خان کا ٹکٹ مردان میں ان کے حلقے میں کروائے جانے والے سروے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

تحریک انصاف نے موقف اختیار کیا ہے کہ مردان میں علی محمد خان کے حلقے میں کروائے جانے والے عوامی سروے کے نتائج آنے کے بعد ان کے ٹکٹ کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی عارف نظامی نے علی محمد خان سے سوال کیا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ آپ کو ٹکٹ نہیں دیا جا رہا حالانکہ آپ تو پارٹی کے نظریاتی آدمی ہیں ، کیا آپ کو اس بات پر حیرانی نہں ہوئی؟ جس پر پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے کہا کہ میں نے کبھی اپنے ذاتی سیاسی مسائل پر ٹی وی پر یا سب کے سامنے بات نہیں کی لیکن اب چونکہ آپ نے سوال کیا ہے تو میں آپ کو جواب دے دیتا ہون کہ میں پی ٹی آئی اور عمران خان کے ساتھ ایم این اے اور وزارتوں کے چکر کے لیے نہیں ہوں۔

میں ایک متحرک کارکن ہوں اور اس تحریک کا حصہ ہوں اور جب ہم تحریک کا حصہ ہوتے ہیں تو ہمیں اپنے لیڈر کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ فی الحال مجھے ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی لیکن مجھے اپنے لیڈر سے پوری اُمید ہے، ان پر مکمل اعتماد ہے۔ مجھے تو یئہ حیرانی ہوئی ہے کہ ایک انگریزی اخبار میں مجھ پر دو دن کالم لکھا گیا ، میں حیران ہوں کہ انہوں نے اس قابل جانا کہ علی محمد خان پر دو دن مسلسل کالم لکھا جائے۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے گذشتہ رات عام انتخابات کے لیے اپنے انتخابی اُمیدواروں کی فہرست جاری کی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے خیبرپختونخوامیں صوبائی اسمبلی کے81 اُمیدواروں، سندھ اسمبلی کےفی الحال21 حلقوں،،بلوچستان اسمبلی کے23 حلقوں ، اور پنجاب کے 165 حلقوں کے لئے انتخابی اُمیدواروں کو ٹکٹ جاری کیا گیا ۔ کئی انتخابی اُمیدواروں نے پارٹی کی جانب سے ٹکٹ نہ ملنے پر شدید رد عمل کا اظہار بھی کیا۔

انتخابی اُمیدواروں کی فہرست جاری ہونے پر رد عمل کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے ٹکٹ نہ ملنے والوں کے لیے پیغام جاری کیا جس میں کہا گیا کہ انتخابی اُمیدواروں کو ٹکٹ کا اجرا ایک نہایت اہم لیکن کٹھن مرحلہ تھا۔ہمیں ساڑھے4 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، یہ ایک فطری امر تھا کہ سب کو ٹکٹس دینا ناممکن تھا۔ پارٹی نے نہایت محنت و دیانتداری سے فیصلے کیے، جہاں ضرورت محسوس کی خفیہ انداز میں عوام اور کارکنان سے رائے بھی طلب کی۔

دیرینہ کارکنان اور پارٹی وفاداری کو فیصلہ سازی میں ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ پارٹی چئیرمین نے کہا کہ جن لوگوں کو ٹکٹس نہیں ملے، میں انہیں ساتھ چلنے کی دعوت دیتا ہوں۔ الیکشن کے پیش نظر پی ٹی آئی میں دیگر سیاسی جماعتوں سے کئی بڑے بڑے ناموں نے شمولیت اختیار کی ، یہ سلسلہ نواز شریف کی نا اہلی اور الیکشن کے نزدیک آنے پر تیز ہو گیا جب مسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں سے کئی بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔

بڑے سیاسی ناموں کی پی ٹی آئی میں شمولیت اور ان کو ٹکٹ جاری ہونے کے معاملے پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہو گی جس کی وجہ سے انہوں نے پی ٹی آئی میں شامل ہو کر اپنا سیاسی کیرئیر مزید محفوظ کر لیا ہے۔