چوہدری نثارکا ن لیگ کے ٹکٹ پرالیکشن نہ لڑنےکا اعلان

آزاد حیثیت میں الیکشن لڑوں گا،عورت راج کے مخالف نے آج اپنی بیٹی پارٹی پرمسلط کردی،میں نے منہ کھولا توشریف کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر جون 16:48

چوہدری نثارکا ن لیگ کے ٹکٹ پرالیکشن نہ لڑنےکا اعلان
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 جون 2018ء) ::پاکستان مسلم لیگ ن کے ناراض سینئرمرکزی رہنماء چوہدری نثار علی خان نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پرالیکشن نہ لڑنے کا اعلا ن کردیا ہے،،چوہدری نثار نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ عورت راج کے مخالف نے آج اپنی بیٹی پارٹی پرمسلط کردی،میں نے منہ کھولا توشریف کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق
مسلم لیگ ن کے ناراض سینئرمرکزی رہنماء چوہدری نثار علی خان نے پارٹی قیادت سے کھل کراختلاف رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ چوہدری نثار نے قومی اسمبلی کے حلقہ 59 راولپنڈی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں پی پی 10 اور 12 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ انہوں نے آج یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے سیاسی یتیموں کو ٹکٹ دے دیے ہیں۔

(جاری ہے)

میں نے منہ کھولا توشریف کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔انہوں نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ عورت راج کے مخالف نے آج اپنی بیٹی پارٹی پرمسلط کردی۔ واضح رہے گزشتہ روز چوہدری نثار نے پارلیمانی بورڈ میں ٹکٹ کیلئے درخواست دینے اور بورڈکے سامنے پیش ہوکرٹکٹ مانگنے کے عمل پرشدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پتا نہیں کیوں مجھے ٹکٹ نہ دینے کا بہانہ بنانے کیلئے مضحکہ خیزڈرامے کیے جارہے ہیں۔

پہلے بھی کہہ چکاہوں کہ نہ ان کے ٹکٹ کا امیدوار ہوں اور نہ ہی محتاج ہوں۔انہوں نے کہاکہ جاتی امراء والوں کوکہتا ہوں کہ ڈراموں اور بچگانہ حرکتوں سے اپنا مذاق نہ بنوائیں۔کیا ایسا پہلے کبھی ہوا ہے کہ پارٹی کے سینئر ترین ارکان پارلیمانی بورڈکے سامنے انٹرویو دیں۔انہوں نے کہاکہ علالت سے صحت یابی کے بعد سارے امور پرکھل کراظہار رائے کروں گا۔

واضح رہے مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف نے پارٹی ٹکٹ کیلئے پارٹی کے تاحیات قائد محمد نواز شریف کی سربراہی میں پارلیمانی بورڈ کو انٹرویو دیا۔ اس موقع پر پارلیمانی بورڈ کے اراکین نے شہباز شریف سے ان کی بطور رکن پنجاب اسمبلی کارکردگی اور مستقبل کے حوالے سوالات کئے جن کا شہباز شریف نے بڑے مدلل انداز میں جواب دیا ۔ اتوار کو نجی ٹی وی کے مطا بق شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ نواز شریف پارٹی کے قائد ہیں اور ہم سب پارٹی ڈسپلن کے پابند ہیں، پارٹی جو بھی فیصلہ کرے گی مجھے قبول ہوگا۔

انہوںنے کہا کہ نواز شریف نے اپنے خون اور پسینے سے پارٹی کو سینچا ہے اور پورے پاکستان میں پارٹی کو متعارف کرایا ہے ۔ انہوں نے پارلیمانی بورڈ کے سامنے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی اجازت سے سندھ میں جلسے کئے ہیں وہاں پر سوائے لوٹ مار کے کچھ نظر نہیں آیا ۔ وہاں کے عوام بر ملا کہتے ہیں کہ نواز شریف نے کراچی میں امن اور روشنیوں کوبحال کیا ہے ۔

آ پ نے اور میں نے خیبر پختوانخواہ کے دورے بھی کئے ہیں وہاں کی صورتحال بھی آپ کے سامنے عیاں ہے ۔ شہباز شریف نے کہا کہ پارلیمانی بورڈ کے سامنے انٹر ویو کیلئے پیش ہو کر جمہوری روایات کی پاسداری کی ہے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا مجھے قبول ہوگا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء چوہدری نثار نے این اے 63اور این اے 59سے کاغذات نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف نے اعلان کیا تھا کہ چوہدری نثار ٹکٹ مانگیں یا نہ مانگیں ان کو ٹکٹ دیا جائے گا۔