ٹکٹوں کی تقسیم کا نیا امتحان، مسلم لیگ ن کے کئی رہنماؤں کا پارٹی چھوڑنے کا امکان

ٹکٹوں کی تقسیم کا اعلان ہوتے ہی مسلم لیگ ن کے کئی اہم رہنما پارٹی چھوڑ سکتے ہیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل جون 11:15

ٹکٹوں کی تقسیم کا نیا امتحان، مسلم لیگ ن کے کئی رہنماؤں کا پارٹی چھوڑنے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 جون 2018ء) :عام انتخابات 2018ء کی آمد آمد ہے اور تاحال پی ٹی آئی نے ہی اپنے 60 فیصد سے زائد اُمیدواروں کا اعلان کر کے مذکورہ اُمیدواروں کو ٹکٹس کی تقسیم کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے لیے ٹکٹس کی تقسیم ایک نیا امتحان اور درد سر بن گیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ میں ٹکٹس کی تقسیم پر کئی اختلافات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن میں ٹکٹس کی تقسیم کی وجہ سے کئی اہم پارٹی رہنماؤں کا ناراض ہونے اور پارٹی چھوڑنے کا امکان ہے۔

یہ خدشہ مزید بڑھ جانےسے مسلم لیگ ن پریشانی کا شکار ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے لندن میں مشاورت کے بعد پارٹی ٹکٹ پانے والوں کی فہرستیں فائنل کر لی ہیں۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کئی اہم نشستوں کے حوالے سے ٹکٹیں تبدیل کرنے کا بھی کہا لیکن مریم نواز اور نوازشریف نے واضح انکار کر دیا۔

ن لیگی قیادت نے بیگم کلثوم نواز کی بیماری کابہانہ بناکر ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والی ممکنہ صورتحال پر ملنے والی رپورٹ کی روشنی میں ٹکٹوں کا اعلان وقتی طور پر مؤخر کر دیا ہے ۔ ن لیگی اعلیٰ قیادت نے پارٹی ٹکٹس فائنل کرنے کے بعد اس رپورٹ کی تیاری شروع کروائی تھی کہ اگر ان اُمیدواروں کو ٹکٹ دیئے جاتے ہیں تو پارٹی کی پوزیشن کیا ہو گی؟، جن کو ٹکٹ نہیں ملیں گے کیا وہ اُمیدواروں کا ساتھ دیں گے ؟ اس حوالے سے رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان حالات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے فوری بعد ن لیگ کے اندر شدید اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں اور بہت سے لیگی رہنما پارٹی کو چھوڑ سکتے ہیں ،اختلافات پیدا ہونےکے بعد ناراض رہنما پارٹی اُمیدوار کی سخت مخالفت بھی کر سکتے ہیں جس سے ن لیگ اپنی کئی جیتی ہوئی نشستیں بھی ہار سکتی ہے ۔

رپورٹ میں واضح بتایاگیا ہے کہ لاہور میں کئی ایسے تگڑے اُمیدوار ہیں جن کو دوسرے حلقوں سے الیکشن لڑوانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے وہ پارٹی قیادت سے نالاں ہیں اور ان کے الیکشن ہارنے کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے جبکہ لاہور کے اندر ن لیگ کا ایک بڑا ناراض گروپ بھی ٹکٹوں کے اعلان کے فوری بعد کھُل کر سامنے آ جائے گا ،اس گروپ نے بلال یاسین ، ملک ریاض ، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن ، میاں مرغوب احمد، رانا مشہود ، کھوکھر برادران ،،خواجہ سعد رفیق اورسردار ایاز صادق کی ٹکٹوں کے حوالے سے مخالفت کا آغاز کر رکھا ہے ۔

لاہور میں بلال یاسین کے خلاف اس حلقہ کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کھُل کر سامنے آ چکے ہیں جبکہ نوازشریف کے قریبی ساتھی عبد الغفور میو نے بھی کھُل کر مخالفت شروع کر دی ہے ، اسی طرح ن لیگ کے اندر بننے والے دیگر گروپس بھی صرف اسی انتظار میں بیٹھے ہیں کہ ٹکٹوں کا اعلان ہو تو وہ کھُل کر مخالفت کرسکیں ۔ یہی صورتحال شیخوپورہ کی بھی ہے جہاں ن لیگ کے میاں جاوید لطیف کے خلاف ان کے اپنے ہی گروپ کے لوگ سامنے آگئے ہیں اور کئی پارٹی ٹکٹس کا اعلان ہونے پر آ زاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیں گے ۔

شیخوپورہ میں سندھو بردران اور سابق ایم پی اے عارف سندھیلہ گروپ بھی کھُل کر ن لیگ کے خلاف چلنے کے لیے تیارہے ۔عارف سندھیلہ فیصلہ کر رہے ہیں جبکہ سندھو گروپ آ زاد حیثیت سے سامنے آ رہا ہے ۔ فیصل آ باد میں بھی بظاہر تو یہ کہا جا رہا ہے یہاں کوئی گروپنگ نہیں لیکن چوہدری شیر علی اور رانا افضل گروپ کُھل کر رانا ثنا اﷲ گروپ کی مخا لفت کر رہے ہیں، یہاں بھی ٹکٹوں کے اعلان کے بعد سے ہی ن لیگ کے لیے نیا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔

گوجرانوالہ، گجرات،راولپنڈی ، اوکاڑہ ، ساہیوال اور قصور میں بھی واضح طور پر گروپ بن چکے ہیں۔ ٹکٹوں کے اعلان پر ن لیگ کو پاکستان تحریک انصاف سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ قصور کے علاقہ کوٹ رادھا کشن میں ن لیگ کے سابق ایم پی اے انیس قریشی اور انکے بیٹے دائود قریشی نے آ زاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے ، یہی نہیں بلکہ ان کے جلسہ میں پاک فوج زندہ باد اور سب سے پہلے پاکستان کے نعرے لگتے رہے ، اس حلقہ میں ن لیگ ٹکٹ کے اعلان سے پہلے ہی تقسیم ہو چکی ہے ۔

اوکاڑہ میں بھی ٹکٹوں کے اعلان کے بعد ن لیگ کا ایک گروپ آ زاد حیثیت سے سامنے آ جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام تفصیلات ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کو ملنے والی رپورٹ میں شامل کر دی گئی ہیں جس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ ایک بھی ضلع ایسا نہیں جہاں پر ایسا نہ ہو ۔ن لیگی قیادت کی بھرپور کوششوں کے باوجود بھی اب تک ناراض گروپوں کو منانے میں مکمل طور پر بے بس نظر آرہی ہے ۔

ن لیگ نے تحریک انصاف کے ناراض گروپوں سے رابطے شروع کر رکھے ہیں تاکہ ان کی حمایت لیکر اس سیاسی نقصان سے بچا جا سکے ۔تاہم تحریک انصاف کے ناراض گروپ ن لیگ کی طرف جانے کے بجائے آ زاد حیثیت میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ ن میں ٹکٹس کی تقسیم کے معاملے میں پارٹی فنڈز کی مد میں بھاری رقم وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سابق دور حکومت میں اہم ترین حکومتی عہدوں پر رہنے والے لیگی رہنماؤں اور متعدد ذمہ داران نے اپنے حلقوں کی بجائے آسان حلقوں میں الیکشن لڑنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

جس کی وجہ سے ن لیگ کے اندر چار دھڑے بن چکے ہیں ۔ ان چار دھڑوں میں ایک چودھری نثارکا ، دوسرا حمزہ شہباز کا، تیسرا مریم کا اور چوتھا دھڑا شاہد خاقان کا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 35 سے زائد اُمیدواروں کے سفارشی ہیں اور اس کے لیے انہوں نے لابنگ بھی شروع کر رکھی ہے ۔ نوازشریف کے قریبی ساتھیوں میں سے کچھ لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

اسی طرح جن ایم این ایز اور ایم پی ایز کا چودھری نثار کے ساتھ تعلق تھا ان پر بھی نشان لگا دئے گئے ہیں ۔اور مریم نواز گروپ کسی صورت ان کو ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں ۔ پنجاب میں ٹکٹوں کے معاملے پر مریم نواز اور شہباز شریف کے درمیان بھی ایک سرد جنگ جاری ہے ۔ مریم نواز اپنے گروپ کے زیادہ افراد کو ٹکٹ دلوانا چاہتی ہیں اور اس کے لیے ایسے تمام اُمیدوارجن کو شہبازشریف یا حمزہ کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے ان کے حلقوں کے جعلی سروے کروا کر رپورٹس بھی تیار کی گئی ہیں جن میں ان کی پوزیشن کمزور بتائی گئی ہے اور کئی اُمیدواروں پرسوالیہ نشان بھی لگایا گیا ہے کہ یہ وفاداریاں تبدیل کر سکتے ہیں۔

شہباز شریف اورحمزہ شہباز بھی اپنی لابی کے اُمیدوار لانے کے لیے متحرک ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز وفاق سے زیادہ پنجاب پر اس لیے توجہ دے رہی ہیں کہ وہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب بن سکتی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ جہاں مسلم ن لیگ کے اندر دھڑے بندی مزید تیز ہو چکی ہے وہیں مریم نواز کے میڈیا سیل اور اہم ترین لیگی رہنماؤں کے قریبی ساتھیوں نے بھی ٹکٹیں دلوانے کے لیے پارٹی فنڈز کے نام پر کروڑوں کی رشوتیں لینا شروع کر دی ہیں ۔

اس حوالے سے اب تک 35 سے زائد کیس سامنے آ چکے ہیں جن میں لاہور کے ایک یونین کونسل کے چئیرمین سے مریم نواز کے میڈیا سیل سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن نے 5 کروڑ روپے ٹکٹ دلوانے کے عو ض لئے ۔ اسی طرح حمزہ کے قریبی ساتھی پر لاہور کے ایک بڑے تاجر سے ٹکٹ دلوانے کے لیے کروڑوں روپے لینے کا الزام ہے ۔ دریں اثناء مسلم ن لیگ نے انتخابی مہم میں ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر مذہبی حلقوں کے ردعمل سے بچنے اورپراپیگنڈہ کر کے پارٹی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے تین مختلف پلان پر کام کا آغاز کر دیا ہے ۔

اس ضمن میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ نوازشریف،، شہباز شریف اور اہم لیگی رہنما مختلف مزاروں پر حاضری دے کر انتخابی مہم شروع کریں گے اور اپنے بینرز اور سٹکرز پر ختم نبوت ﷺ زندہ باد طرز کے نعرے بھی تحریر کروائیں گے ۔ تحریک لبیک پاکستان کو منانے کے لیے بھی چند اہم علما کو ٹارگٹ دے دیا گیا ہے ۔ مسلم ن لیگ میں مریم نواز کے میڈیا سیل کے ساتھ ایک اور میڈیا سیل بھی تشکیل دیا گیا ہے جو تین ماہ سے کام کر رہا ہے اور حکومت جانے سے پہلے تک اس کی تنخواہیں سرکاری کھاتوں سے ادا کی جاتی تھیں۔

پلان تھری میں ایک ایسی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ نام نہاد این جی اوز اور غیر ملکی تنظیموں سے جعلی سروے کروا کر پراپیگنڈہ کریں کہ ن لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہو گیا ہے اور ن لیگ الیکشن جیت رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس کے لیے دو معروف کنسٹرکشن کمپنیاں، تین بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے سربراہان اور 17 سرکاری ٹھیکیدار بھاری فنڈنگ کر رہے ہیں۔