شہبازشریف، بلاول بھٹو‘مولانا فضل الرحمان ‘حمزہ اور مریم نوازسمیت دیگرکے کاغذات منظور

عمران خان ‘پرویز مشرف اورڈاکٹر فاروق ستار کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد‘مجموعی طور پر امیدواروں کی تعداد میں کمی آئی ہے-الیکشن کمیشن

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 12:01

شہبازشریف، بلاول بھٹو‘مولانا فضل الرحمان ‘حمزہ اور مریم نوازسمیت ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 جون۔2018ء) عام انتخابات 2018 کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا آج آخری دن ہے۔ الیکشن 2018 کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا آج آخری روز ہے اور ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جانچ پڑتال کا وقت بڑھانے کی کوئی تجویز زیرغور نہیں ہے۔۔لاہور کے حلقہ این اے 132 سے مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔

ملتان کے حلقہ این اے 155 سے جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے، لاہور کی صوبائی اسمبلی پی پی 173 سے مریم نواز اور قصور کے حلقہ پی پی 176 سے نون لیگ کے رہنما ملک محمد احمد خان کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کرلیے گئے۔

(جاری ہے)

جمعیت علمائے اسلام (ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ این اے 38 سے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے۔

کراچی کے حلقہ این اے 246 سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے کاغذات نامزدگی منظورکرلیے گئے جبکہ این اے 254 اور 255 سے پاک سرزمین پارٹی کے رہنما ارشد ووہرا کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے۔۔ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما محمد حسین خان کے این اے 245 سے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے۔دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے این اے 53 سے جمع کرائے جانے والے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے۔

ذرائع کے مطابق عمران خان کے کاغذات نامزدگی بیان حلفی کی شق این کے تحت مسترد کیے گئے۔جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالوہاب کی جانب سے عمران خان کے خلاف اعتراضات ریٹرننگ افسر کو جمع کرائے گئے تھے جس پر دونوں فریقین کے وکلا کی جانب سے آج دلائل مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔۔عمران خان کے وکیل بابر اعوان ریٹرننگ آفیسر کے سامنے پیش ہوئے تھے، انہوں نے اپنے دلائل میں عمران خان کے خلاف اعتراضات کو جعل سازی اور فراڈ پر مبنی قرار دےدیا تھا۔

انہوں نے کہا تھاکہ اعتراضات فوٹو اسٹیٹ کاغذات پر مشتمل اور غیر تصدیق شدہ ہیں جو جعل سازی کے زمرے میں آتے ہیں۔دریں اثناءالیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر اقلیتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے ہیں۔۔تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ناموں کی فہرست دیر سے پہنچانے پر کاغذات مسترد کر دیے گئے جبکہ تحریک انصاف کے اقلیتی امیدواروں کو عدالت کے ذریعے مزید کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تحریک انصاف کے امیدوار عدالتی آرڈر کے ذریعے کاغذات جمع کرائیں گے اور الیکشن کمیشن کو فریق بنا کر درخواست دیں گے۔۔تحریک انصاف کے جانب سے مخصوص اقلیتی نشست کے لیے 7 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ہارون، عمران گل، اعجاز مسیح، مہندر پال، پیٹر گل، جوگندر چوہان، حبقوق اور سیمول یعقوب شامل ہیں۔۔الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق عام انتخابات 2018 میں قومی وصوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کی تعداد میں الیکشن 2013کے مقابلے میں کمی آئی ہے ‘2013 کے مقابلے میں 2018 کے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں کی تعداد کم ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں آئندہ عام انتخابات کے لیے میدان میں اترنے والے امیدواروں کی تعداد میں 7 ہزار کمی واقع ہوئی ہے۔ 2013 میں 28 ہزار 302 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے جبکہ انتخابات 2018 کے لیے 21 ہزار 482 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ قومی اسمبلی کے لیے امیدواروں کی تعداد 7 ہزار 996 سے کم ہو کر 5 ہزار 473 ہے جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے لیے 18 ہزار 825 امیدواروں سے کم ہو کر تعداد 13 ہزار 693 ہوگئی ہے۔

قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے مختص نشستوں پر امیدواروں کی تعداد 350 سے بڑھ کر 436 ہوگئی اور صوبائی اسمبلیوں میں یہ تعداد 821 سے بڑھ کر 1255 ہوگئی ہے۔ قومی اسمبلی کے لیے اقلیتی امیدواروں کی تعداد میں کوئی رد و بدل نہیں ہوا اور 2013 کی طرح اس مرتبہ بھی اقلیتی نشستوں پر 154 امیدوار سامنے آئے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی امیدواروں کی تعداد 310 سے بڑھ کر 471 ہوچکی ہے۔

یاد رہے کہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لیے بیان حلفی جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے پیش نظر کئی سیاستدانوں نے کاغذات نامزدگی جمع ہی نہیں کرائے اور خاص طور پر سیف اللہ فیملی نے بھی اسی وجہ سے انتخابات نہ لڑنے کا اعلان کیا۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 11 جون تک امیدواروں کے کاغذات نامزدگی وصول کیے تھے جس کے بعد ان کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا گیا۔

انتخابی شیڈول کے مطابق ریٹرننگ افسران کے فیصلے پراعتراضات کے لیے اپیلیں 22 جون تک دائر کی جاسکیں گی اور امیدواروں کی نظرثانی شہدہ فہرست 28 جون کو جاری کی جائے گی۔ادھر کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ ((ایم کیو ایم)) پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کے الیکشن 2018 کے لیے جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہوگئے۔ریٹرننگ افسر احسان خان نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار 2 مقدمات میں مفرور ہیں اور کاغذاتِ نامزدگی میں انہوں نے دونوں مقدمات چھپائے۔

ریٹرننگ افسر نے فیصلے میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے کاغذاتِ نامزدگی میں اپنی مفروری کے حوالے سے ذکر نہیں کیا۔۔ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے این اے 245 کراچی سے آئندہ انتدابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔دوسری جانب آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کے این اے ایک چترال سے کاغذات نامزدگی کو مسترد کردیا گیا ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے این اے 1 چترال کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے تھے جس کو ریٹرننگ افسر نے مسترد کردیا جبکہ اے پی ایم ایل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد کے کاغذات نامزدگی این اے 1 کیلئے منظور کرلیے گئے ہیں۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پرویز مشرف نااہل ہونے کی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے تاہم ہم انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے اور اس بار کوئی بائیکاٹ نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر امجد نے کہا کہ پرویز مشرف واپس آنا چاہتے تھے مگر راہ میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے، پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کردیا جاتا ہے تاہم پرویز مشرف انتخابات سے قبل ملک واپس آسکتے ہیں۔