سیاسی رنجش یا کچھ اور یونین کونسل گجربانڈی میں پانی کے معمولی تنازعہ پر 2برادریوں کے درمیان خون ریز تصادم

مصالحت کیلئے آنے والے ایڈمنسٹریٹر ہیٹاں فرید خان سمیت 4افرادزخمی تھانہ پولیس چناری کی موجودگی میں حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہو سکی

بدھ جون 16:10

چناری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) سیاسی رنجش یا کوئی اور یونین کونسل گجربانڈی میں پانی کا معمولی تنازعہ دور برادریوں کے درمیان خون ریز تصادم میں تبدیل،مصالحت کیلئے آنے والے ایڈمنسٹریٹر ہیٹاں فرید خان سمیت چارافرادزخمی،،تھانہ پولیس چناری کی موجودگی میں حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہو سکی،بلکہ پولیس مشترکہ ایف آئی آر درج کر کے حملہ آور گروپ کو تحفظ فراہم کرنے لگی۔

تفصیلات کے مطابق کٹھائی گائوں کے شیخ اوراعوان برادری کے درمیان رمضان المبارک میں پانی کے پائپ پر معمولی تلخ کلامی ہوئی جسے عمائدین علاقہ نے جرگہ کی صورت میں ختم کردیا عید سے ایک دن قبل بوجہ فوتگی اعوان برادری کے تمام لوگ گھروں میں موجود نہ تھے کہ شیخ برادری نے موقع کی مناسبت جانتے ہوئے اعوان برادری کے گھروں پر حملہ آور ہو گئے اور گھروں میں موجود خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اورگھروں پر پتھرائو کیا جس سے گھروں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے اورتین بچے پتھرئو کی وجہ سے زخمی بھی ہوئے واقعہ کی تھانہ پولیس چوکی کو اطلاع دی گئی پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی بعدازاں ایڈمنسٹریٹر ہٹیاں بالا فرید خان بمعہ پولیس کٹھائی پہنچے اور معاملہ جرگہ کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی دوران جرگہ سیاسی عمائدین کی ایماء پر شیخ برادری کے چندافراد پھر مشتعل ہوئے اور پتھرائو کر دیا جس سے ایڈمنسٹریٹر بھی زخمی ہوئے اور دو روز تک سی ایم ایچ داخل رہے واقعہ پولیس کی موجودگی میں ہونے کے باوجود پولیس نے مشترکہ پرچہ درج کرکے حملہ آوروں کو تحفظ فراہم کیا جبکہ پولیس واقعہ کی عینی شاہد ہے۔

(جاری ہے)

متاثرہ گروپ کے عمائدین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس حملہ آور گروپ کو تحفظ فراہم کر کے علاقے میں انتشار پھیلارہی ہے پہلے ہی درخواست پر اگر پولیس منصفانہ کارروائی کرتی تو بعد والا واقعہ پیش نہ آتا عمائدین علاقہ نے وزیراعظم،،آئی جی پولیس سے فی الفور نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ میں امن وامان کی صورتحال کو کنڑول نہ کیا گیا تو کسی بھی بڑے واقعے کی ذمہ دار پولیس ہوگی۔