مقبوضہ کشمیر ،ْ شہداء کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

اسلام آباد، کولگام اور سرینگر کے علاقوں میں ہڑتال ،موبائل فون، انٹرنیٹ اور ریل سروسز معطل

ہفتہ جون 16:52

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پانچ کشمیریوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ بھارتی فوجیوں نے ضلع اسلام آباد کے علاقے سری گفوارہ میں جمعہ کے روز محاصرے او ر تلاشی کی کارروائی کے دوران محمد یوسف راتھر نامی شخص کو انکے گھر پر اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید جبکہ انکی اہلیہ حفیظہ بیگم کوزخمی کر دیا تھا۔

فوجیوں نے بعد میں شہید کے گھر کو بارودی مواد کے ذریعے تباہ کر دیا تھا جسکے نتیجے میں گھر میں موجود دائود احمدصوفی، ماجد منظور ڈار، محمد اشرف ایتو اور عادل الرحمان نامی نوجوان شہید ہو گئے تھے ۔۔شہید نوجوان دائو احمد صوفی کا تعلق سرینگر کے علاقے زینہ کوٹ سے تھاجہاں ہزاروں لوگوں نے انکی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

شہید کو آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعروں کی گونج میں سپرد خا ک کیا گیا ۔

اس دوران علاقے کی مساجد کے لائوڈ سپیکروں سے آزادی کے حق میں نغمے نشر کیے جاتے رہے ۔ شہید عادل الرحمان اور شہید اشرف ایتو کو سری گفوارہ کے سیتی پورہ اور ہتھ گام علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا ۔ ان کی نماز جنازہ میں بھی ہزاروں لوگ شریک تھے ۔ شہید ماجد منظور ڈار کو ضلع پلوامہ کے علاقے تلان گام میں اپنے آبائی قبرستان میں سپرد خا ک کیا گیا ۔

بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے باعث ان کی نماز جنازہ متعدد مرتبہ اد ا کی گئی۔دریں اثنا نوجوانوں کی شہادت پر اسلام آباد ، کولگام اور سرینگرکے علاقوں میں ہفتہ کو مکمل ہڑتال رہی۔دکانیں، کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل تھی ۔قابض انتظامیہ نے لوگوں کو تازہ ترین صورتحال کے بارے میں ایک دوسرے کو معلومات کی فراہمی سے روکنے کیلئے اسلام آباد، پلوامہ اور سرینگر کے اضلاع میں دوسرے روز بھی موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کا سلسلہ جاری رکھا۔انتظامیہ نے بانیہال اور بارہمولہ کے درمیان ریل سروس بھی معطل کر دی ۔