مٹیاری ضلع میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے 45 امیدواروں کو شوکاز نوٹس جاری

منگل جولائی 17:10

مٹیاری (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جولائی2018ء) ڈپٹی کمشنر مٹیاری کیپٹن (ر) الطاف حسین ساریو نے کہا ہے کہ مٹیاری واحد ضلع ہے جس میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے 45 امیدواروں کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں اور ان سے ایک دن کے اندر شوکاز کا جواب طلب کیا گیا ہے، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کسی قیمت پر برداشت نہیں ہوگی، تمام مانیٹرنگ افسران بھی شوکاز جاری کرنے کے اختیارات رکھتے ہیں تاحال صرف ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر / ڈپٹی کمشنر مٹیاری کی جانب سے این اے 223 کے 14 امیدواروں جبکہ دونوں صوبائی حلقوں کے 31 امیدواروں کو شوکاز دیئے گئے ہیں اس کے باوجود کسی بھی امیدوار نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی جاری رکھی تو اس کا کیس براہ راست الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ارسال کیا جائے گا جس پر امیدوار کی نااہلی بھی ہوسکتی ہے۔

(جاری ہے)

ڈی سی آفیس مٹیاری میں ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیپٹن (ر) الطاف حسین ساریو نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے امیدواروں کو جاری کئے گئے شوکاز کسی قیمت پر واپس نہیں ہونگے، بغیر اجازت سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے، مانیٹرنگ افسران تمام امیدواروں کو ذاتی طور پر فون کرکے بتادیں کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے حوالے ضلعی انتظامیہ نے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی ہے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انتخابی تشہیری مواد کو موقعے پر ہٹانے کے دوران کسی بھی قسم کی رکاوٹ درپیش آنے کی صورت میں پولیس سے مدد لی جائے، اگر معاملہ حل نہیں ہوتا تو ڈپٹی کمشنر آفیس یا ڈویزنل کمشنر آفیس کو اطلاع دی جائے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اجلاس میں ضلع کے تمام افسران، اسسٹنٹ کمشنرز، تعلیم، صحت، پولیس اور روینیو افسران نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر مٹیاری نے بتایا کہ ڈویزنل کمشنر حیدرآباد کی صدارت میں پیر کو ہونے والے اعلی سطحی اجلاس میں الیکشن 2018 کو صاف، شفاف، غیر جانبدارانہ اور پرامن ماحول میں کرانے کے لئے ضابطہ اخلاق پر ہر صورت عمل درآمد کرانے کا فیصلا کیا گیا اور خلاف ورزی پر الیکشن قوائد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لانے کا بھی فیصلا کیا گیا جبکہ اجلاس میں ایک اعلی عملدار نے بتایا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تیرہ ہزار رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن پر خلاف ورزی کرنے والے امیدواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔