لاہور کے حلقہ میں انگوٹھے پر نشان لگائے بغیر ووٹنگ جاری

این اے 132میں عملہ کو بیلٹ پیپرز پر انٹریز میں بھی مشکلات کا سامنا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جولائی 09:25

لاہور کے حلقہ میں انگوٹھے پر نشان لگائے بغیر ووٹنگ جاری
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔25جولائی 2018ء) انتخابات کا دن آن پہنچا ہے اور ملک بھر میں پولنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ بلاتعطل شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔آج قومی اسمبلی کی 270 اور صوبائی اسمبلیوں کی 570 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔اور لوگ بھی اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکل پڑے ہیں۔

ووٹرز میں انتخابات کے حوالے سے شدید جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے کئی پولنگ اسٹیشن کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔تاہم لاہور کے حلقہ این اے 132 سے ایک عجیب خبر سامنے آئی ہے جہاں انگوٹھے پر نشان لگائے بغیر ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق این اے 132میں ووٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جہاں انگوٹھے پر نشان لگائے بغیر ہی ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔

(جاری ہے)

جب کہ این اے 132میں عملہ کو بیلٹ پیپرز پر انٹریز میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔یاد رہے عام انتخابات 2018 صوبائی دارلحکومت لاہور کی حلقہ این اے 132 سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر و سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری محمد منشاء سندھو اور پی پی پی کی امیدوار ثمینہ خالد گھرکی سمیت15امیدوار میدان میں ہیں، حلقہ این اے 132 پرانےحلقہ این اے 129 اور این اے 130 کے علاقوں پر مشتمل ہے، اس حلقہ کا زیادہ حصہ پرانےحلقہ این اے 130کی علاقوں پر مشتمل ہے، اس حلقہ کے اہم علاقوں میں قومی اسمبلی کا حلقہاین اے 130نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 132میں تبدیل ہو گیا، اس حلقہ میںبرکی پنڈ، ہڈیارہ گائوں، پنگالی گائوں، ہیئر پنڈ، جاہمن پنڈ، ڈی ایچ اے فیز8، جلو موڑ،کاہنہ نو، بھٹہ چوک، بیدیاں روڈ، گجومتہ، جھلکے گاں،گاگا پنڈاور روڈانوالا گاںشامل ہے، این اے 132 زیادہ تر دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔