باقاعدہ مذاکرات شر وع کئے جائیں ،ْوزیراعظم عمران خان کا بھارتی وزیر اعظم مودی کو خط

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر وزرائے خارجہ مذاکرات کریں ،ْمسئلہ کشمیر سمیت سرکریک اور سیاچن کے تنازعات کا حل تلاش کرنا ہوگا، پاکستان اور بھارت کو اپنے عوام اور آنے والی نسلوں کی بہتری اور امن کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے ،ْخط کا متن عمران خان کی جانب سے الیکشن میں فتح کے بعد بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے لکھے گئے خط کے جواب میں لکھا گیا

جمعرات ستمبر 13:20

باقاعدہ مذاکرات شر وع کئے جائیں ،ْوزیراعظم عمران خان کا بھارتی وزیر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2018ء) وزیرِاعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ طور پر دوبارہ آغاز کرنے پر زورد یتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ بات چیت کا آغاز کریں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر وزرائے خارجہ مذاکرات کریں ،ْمسئلہ کشمیر سمیت سرکریک اور سیاچن کے تنازعات کا حل تلاش کرنا ہوگا، پاکستان اور بھارت کو اپنے عوام اور آنے والی نسلوں کی بہتری اور امن کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم عمران نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کو جلد شروع کرنے پر زور دیا۔اپنے خط میں وزیرِاعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کی بھی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

(جاری ہے)

سفارتی ذرائع کے مطابق خط میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ بات چیت کا آغاز کریں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر وزرائے خارجہ مذاکرات کریں۔

یاد رہے کہ منصب سنبھالنے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم عمران خان کو مبارکباد کا خط لکھا تھا جس کے جواب میں عمران خان نے مبارکباد دینے پر اپنے جوابی خط میں ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔وزیراعظم عمران خان کے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بلاشبہ ناقابل تردید چینلجز کا شکار ہیں تاہم پاکستان دہشت گردی کے معاملے پر بھی یقینی طور پر بات کرنے کو تیار ہے۔عمران خان نے خط میں کہا کہ مسئلہ کشمیر سمیت سرکریک اور سیاچن کے تنازعات کا حل تلاش کرنا ہوگا، پاکستان اور بھارت کو اپنے عوام اور آنے والی نسلوں کی بہتری اور امن کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔