نواز شریف اور مریم نواز کی اڈیالہ جیل سے رہائی، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی سیاست دفن ہونے کا امکان

نواز شریف اور مریم نواز کی سیاست اب شروع ہو گی ، مریم نواز پارلیمانی سیاست میں بھی قدم رکھیں گی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات ستمبر 14:43

نواز شریف اور مریم نواز کی اڈیالہ جیل سے رہائی، شہباز شریف اور حمزہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 ستمبر 2018ء) : گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا جبکہ تینوں قیدیوں کو 5،5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی جمع کروانے کا حکم دیا گیا ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے بعد تینوں قیدیوں کو اڈیالہ جیل سے رہا کر کے خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور لایا گیا۔

اس موقع پر مسلم لیگ ن کے کارکنان کی بڑی تعداد نے اپنے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا استقبال کیا اور ان پر گُل پاشی بھی کی۔
نواز شریف اور مریم نواز کی رہائی سے جہاں مسلم لیگ ن کے رہنما اور کارکنان بے حد خوش ہیں وہیں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہیں۔

(جاری ہے)

سیاسی حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز نے جیل کاٹی جس کی وجہ سے ان کا بیانیہ مزید مضبوظ ہو گیا ہے اور اب ان کی سیاست کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔

نواز شریف اور مریم نواز 68 دنوں تک جیل رہے لیکن پارٹی کے تمام فیصلے پارٹی صدر شہباز شریف کی بجائے اڈیالہ جیل میں بیٹھے نواز شریف اور مریم نواز نے ہی کیے۔ عام انتخابات 2018ء سے باہر رہنے کے باوجود بھی نواز شریف اور مریم نواز پارٹی کے اُمیدواروں کو ٹکٹس کی تقسیم تک کے معاملے پر خود ہی فیصلے کرتے رہے۔ نواز شریف اور مریم نواز نے کئی مرتبہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا،لیکن یہ تاثر تب مضبوط ہوا جب نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپس آئے اور شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی قیادت میں نکالی گئی ریلیاں لاہور ائیر پورٹ نہیں پہنچ سکیں۔

اس کے بعد ہی سے شہباز شریف اور حمزہ شہباز پارٹی قائد کو کھٹکنے لگے جبکہ مریم نواز نے بھی اپنے والد کو چچا اور بھتیجے پر اعتبار نہ کرنے کا مشورہ دیا۔
جب نواز شریف اور مریم نواز اڈیالہ جیل میں قید تھے تب بھی شہباز شریف اور حمزہ شہباز پارٹی فیصلوں میں خود مختار اور آزاد نہیں تھے اور اب تو نواز شریف اور مریم نواز رہا ہو کر باہر آگئے ہیں جس کی وجہ سے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی سیاست خطرے میں پڑ گئی ہے۔

مریم نواز کی سیاسی بصیرت ، ان کا کم عرصے میں پارٹی میں مقبول ہو جانا اور اب جیل سے باہر آجانا حمزہ شہباز کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرناک ہے۔ ہو سکتا ہے کہ حمزہ شہباز سیاسی منظر نامے سے غائب ہو جائیں یا ایک کونے میں بیٹھ جائیں۔
کیونکہ مریم نواز نے جیل سے باہر آتے ہی پارلیمانی سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

مریم نواز لاہور کے حلقہ این اے 127 سے ضمنی الیکشن میں حصہ لیں گی۔ این اے 127 سے مسلم لیگ ن کے کامیاب لیکن کورنگ اُمیدوار علی پرویز اپنی نشست سے استعفیٰ دیں گے جس کے بعد مریم نواز اس حلقے سے الیکشن میں حصہ لیں گی۔ دوسری جانب نواز شریف نے بھی بیگم کلثوم نواز کے جنازے پر خود گاڑی چلا کر جنازہ گاہ پہنچے جبکہ شہباز شریف گاڑی کی پچھلی نشست پر موجود تھے۔

نواز شریف کے اس عمل کو ان کی جانب سے ایک پیغام سمجھا جا رہا ہے اور وہ پیغام یہ ہے کہ اس قدر نازک حالات میں بھی میں ٹوٹا نہیں ، میرے حوصلے ابھی بھی بلند ہیں اور اعصاب ابھی بھی مضبوط ہیں۔ نواز شریف کی جیل سے رہائی نے ان کے بیانیے کو نہ صرف پہلے سے زیادہ مضبوط بنایا ہے بلکہ اس سے ان کی سیاست کو مزید عروج ملنے کا امکان ہے۔

پارٹی کے فیصلے جو پہلے اڈیالہ جیل میں ہوتے تھے اب جاتی امرا میں ہوں گے جبکہ شہباز شریف پہلے کی طرح صرف ڈمی پارٹی صدر بن کر رہ جائیں گے۔ نواز شریف شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے حق میں بھی نہیں تھے اور عین ممکن ہے کہ شہباز شریف سے یہ عہدہ واپس لے لیا جائے ۔
کیونکہ احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی نواز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں نواز شریف نے اس ملاقات میں شاہد خاقان عباسی کو حکم دیا تھا کہ آپ نے ہر حالت میں ضمنی الیکشن میں حصہ لینا ہے۔

پھر چاہے آپ لاہور سے الیکشن لڑیں یا کہیں اور سے، آپ نے ضمنی الیکشن میں حصہ لے کر کامیاب ہونا ہے اور قومی اسمبلی پہنچنا ہے۔ نواز شریف نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو کہا کہ آپ نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سنبھالنا ہے۔ جس کے بعد شاہد خاقان عباسی نے پارٹی قائد کا حکم مانتے ہوئے این اے 124 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جس پر پولنگ 14 اکتوبر کو ہو گی۔

عین ممکن ہے کہ شاہد خاقان عباسی کی کامیابی کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ انہی کو سونپ دیا جائے کیونکہ مسلم لیگ ن کو حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے شہباز شریف جیسے تحمل مزاج لیڈر کی ضرورت نہیں ہے ۔
انہیں کسی ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو نواز شریف کے بیانیے کو لے کر آگے چلے اور قومی اسمبلی میں بھی ان کی ہدایات لے کر چلے۔ اور اس کے لیے نواز شریف شاہد خاقان عباسی پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔