حکومت بتائے گردشی قرضوں میں اضافے کاذمہ دار کون ہے ،سراج الحق

ذمہ داروں کیخلاف کاروائی کے متعلق کیا فیصلہ کیا گیا ہے ، موجودہ حکومت بھی ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریبوں پر ڈال رہی ہے تحریک انصاف کی حکومت کو سب سے انصاف کرنا ہوگا ، حکومت کو مہنگائی کے مشورے دینے والے نام نہاد معاشی ماہرین حکومت کے دوست نہیں دشمن ہیں حکومت ان مشیروں کے چنگل سے نہ نکلی تو تبدیلی کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے ۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی تو عام آدمی مایوسی کاشکار ہوگا ،میڈیا سے گفتگو

منگل ستمبر 21:12

حکومت بتائے گردشی قرضوں میں اضافے کاذمہ دار کون ہے ،سراج الحق
اسلام آباد /لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت بتائے کہ گردشی قرضوں میں اضافے کاذمہ دار کون ہے ۔ذمہ داروں کیخلاف کاروائی کے متعلق کیا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ موجودہ حکومت بھی ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریبوں پر ڈال رہی ہے ۔ ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو سب اچھا لگتاہے ۔ ہمارے ادارے ناکام ہورہے ہیں ، پتہ چلنا چاہیے کہ کس نے حلال اور کس نے حرام دولت جمع کی ہے ۔

تحریک انصاف کی حکومت کو سب سے انصاف کرنا ہوگا ۔عوام تیل کی قیمتوں میں متوقع اضافہ سے بری طرح خوف زدہ ہیں ۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی سمری نے عوام کی نیندیںاڑا دی ہیں ۔حکومت کو مہنگائی کے مشورے دینے والے نام نہاد معاشی ماہرین حکومت کے دوست نہیں دشمن ہیں ۔

(جاری ہے)

حکومت ان مشیروں کے چنگل سے نہ نکلی تو تبدیلی کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے ۔

حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی تو عام آدمی مایوسی کاشکار ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام نے پی ٹی آئی حکومت سے بہت سی توقعات باندھ رکھی ہیں ۔ پی ٹی آئی نے بھی انتخابات سے قبل اپنے منشور میں اور حکومت میں آنے کے بعد اپنے سو روزہ پلان میں عوام کو تبدیلی کے بہت سے خواب دکھا ئے اور خود عمران خان نے وعدہ کیا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہماری پہلی ترجیح ہے۔

انہوںنے کہاکہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ حکومت عوام کے اعتماد پر پوری اترے اور عوام جن مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں ان سے چھٹکارا مل سکے ۔ حکومت نے ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے اور پچاس لاکھ لوگوں کو چھت مہیا کرنے کا جو عزم کیاہے ، حکومت اس کو پورا کرنے میں کامیاب ہو سکے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے پاس نہ جانے ، قرضوں کی لعنت سے چھٹکارا پانے اور سودی معیشت کے خاتمہ کا جواعلان کیا ہے ، اس پر عمل ہوناچاہیے ۔

سودی معیشت کی موجودگی میں پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے طرز پر ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے دعوئوں پر کوئی بھی یقین نہیں کرے گا۔ سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجوزہ اضافے سے مہنگائی کا ایک طوفان آئے گا اور عام آدمی جو پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہاہے ، بری طرح پس جائے گا ۔انہوںنے کہاکہ حکومت قومی دولت لوٹنے والے بڑے مگر مچھوں کو پکڑے اور ان سے لوٹی دولت واپس لے کر اپنی ضروریات پوری کرے، غریبوں پر ٹیکس لگانے اور بجلی گیس تیل کی قیمتوں میں اضافے سے آئی ایم ایف کا سود اترے گا نہ کاروبار حکومت زیادہ دیر چل سکے گا ۔

دریں اثنا سینیٹر سراج الحق نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ہالینڈ میں وزیر خارجہ سے ملاقات میں خاکوں اور کارٹونز کی اشاعت اور مقابلوں کو ختم کرانے کے مطالبے کا خیر مقدم کیاہے اور اس ضرورت پر زور دیاہے کہ وزیرخارجہ جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں تحفظ ناموس انبیاء ؑ پر عالمی سطح پر قانون سازی ، کشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمہ ، کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دلانے اور امریکی قید سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے مطالبات کو بھی عالمی برادری کے سامنے رکھیں ۔