ایک ہفتے میں بتایا جائے کہ پرویز مشرف کب وطن واپس آرہے ہیں،سپریم کورٹ

منگل ستمبر 23:26

ایک ہفتے میں بتایا جائے کہ پرویز مشرف کب وطن واپس آرہے ہیں،سپریم کورٹ
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) سپریم کورٹ نے این آراو کیس کے عدالتی فیصلے پرعملد رآمد کے حوالے سے مقدمہ میںسابق صدرپرویز مشرف کے واپس نہ آنے کاسخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق صدر ریڑھ کی ہڈی کے درد کا بہانہ کرکے نکل گئے لیکن اب واپس آنے پرتیار نہیںکسی کیلئے الگ قانون نہیں ایک ہفتے میں بتایا جائے کہ پرویز مشرف کب وطن واپس آرہے ہیں، غلط تاثر ہے کہ عدالت نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالا ہے ۔

منگل کوچیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اس موقع پرچیف جسٹس نے سابق صدرکے وکیل اختر شاہ نے سابق صدر کی جانب سے بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا تو چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ ہمیں بتایاجائے کہ پرویز مشرف کب پاکستان آئیں گے آخر جنرل صاحب پاکستان کیوں نہیں آرہے، اگروہ واپس آجائیں ہم یہاں سی ایم ایچ کے بہترین ڈاکٹر سے ان کا علاج کروائیں گے، جس پرسابق صدر کے وکیل نے بتایا کہ پرویز مشرف عدالتوں کا احترام کرتے ہیں وہ وطن واپس آناچاہتے ہیں لیکن انہیں سیکورٹی کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ کیا ان کے لئے ملک میں علیحدہ قانون ہے، ہمیں ایک ہفتے میں جواب دے کر بتایا جائے کہ پرویز مشرف وطن واپس آرہے ہیں یا نہیں۔عدالت کے روبرو سابق صدر کے وکیل نے موقف اپنایاکہ یہاں سابق صدر کی ساری جائیداد اوراکائونٹس منجمد ہیں وہ یہاں کس طرح آسکتے ہیں، جس پرچیف جسٹس نے ان سے کہاکہ آپ کے موکل جب آناچاہیں چک شہزاد میں ان کاگھر نہ صرف کھول دیا جائے گا بلکہ ہرطرح سے صفائی کرکے حوالے کیاجائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ وہ آئیں تو سہی ، جس پرایڈووکیٹ اخترشاہ نے کہاکہ انہیں یہ حدشہ ہے کہ وطن آنے کے بعد شاید واپس جانے نہیں دیا جائے گااگر اس حو الے سے ہمارے خدشات دورکئے جائیں اور یہاں آنے کے بعد واپس جانے پر پابندی نہ لگائی جائے تو مشرف واپس آسکتے ہیں' جس پرچیف جسٹس نے ان سے کہا کہ اگر پرویز مشرف ایک بریگیڈ سیکیورٹی بھی مانگیں گے تو وہ بھی مہیا کردی جائے گی، سیکیورٹی جہاں سے چاہیں عدالت مہیا کرنے کیلئے تیار ہے وہ اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج بھی کروا سکتے ہیں، چاہے سی ایم ایچ یا آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ( اے ایف آئی سی) سے علاج کروائیں سابق صدر کی آمد سے پہلے ان کے گھر کی صفائی ستھرائی کی جائے گی جس کا جائزہ نعیم بخاری کے ذریعے لیا جائے گا وہ جس ایئر پورٹ پر اتریں گے رینجرز کا دستہ ان کا استقبال کرے گا، لیکن وہ آکر اپنا بیان قلمبند کروائیں پھر جہاں چاہیں گھومیں پھریں پرویز مشرف واپس آنے کے لئے جو بھی انتظامات چاہتے ہیں ہم کر کے دیں گے سپریم کورٹ ان کی حفاظت یقینی بنائے گی اور ان سے ان کے اثاثوں کا بھی نہیں پوچھے گی، چیف جسٹس نے سابق صدرکے وکیل سے استفسارکیاکہ 'مجھے مشرف کی واپسی کا شیڈول بتایا جائے جس پر سابق صدر کے وکیل کا کہنا تھا پرویز مشرف بزدل نہیں ہیں، اگر ان کے آنے جانے پر پابندی نہ لگائی جائے تو وہ واپس آ سکتے ہیں۔

ہمیں ایک ہفتے کی مہلت دی جائے میں ہدایات لے کرسب کچھ عدالت کو بتائوں گا اورجھوٹ ہرگز نہیں بولوں گا فاضل وکیل نے استدعاکی کہ سابق صدرکے سارے اکائونٹس منجمد ہیں ہمیں پیسوں کی اشد ضرورت ہے ان کے اکائونٹ کھولے جائیں جہاں ان کی پنشن کی رقم جمع کی جارہی ہے تاہم عدالت نے ان کی استدعامسترد کرتے ہوئے سابق صدرکے اکائونٹس کی دس سالہ تفصیلات طلب کرلیں اور ہدایت کی کہ آئندہ منگل تک سابق صدر کی واپسی کاشیڈول عدالت کوپیش کیاجائے اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی ، یادرہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007 ء کو قومی مفاہمتی آرڈیننس( این آراو) جاری کیا تھا جس کا مقصد قومی مفاہمت کا فروغ، سیاسی انتقام کی روایت کا خاتمہ اور انتخابی عمل کو شفاف بنانا بتایا گیا تھا اس قانون کے تحت 8 ہزار سے زائد مقدمات بھی ختم کیے گئے۔

تھے این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں نامی گرامی سیاستدان بھی شامل ہیں اسی قانون کے تحت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کی واپسی بھی ممکن ہوسکی تھی۔تاہم دو سال بعد 16 دسمبر 2009 ء کو سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے این آر او کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس قانون کے تحت ختم کردہ تمام مقدمات کوبحال کرنے کے احکامات جاری کئے۔