سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف صرف نام ہی کے وزیراعلیٰ تھے بلکہ وہ تو ایک بادشاہ تھے کیونکہ کوئی رکن اسمبلی ان کے کمرے میں بھی داخل نہیں ہو سکتا تھا‘ آئی جی سمیت چیف سیکرٹری لیول کے بندوں کی انہوں نے عوام کے درمیان بے عزتی کی اور ان کے نزدیک انکے وزراء کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں تھی، پہلے اس قسم کا نظام پنجاب میں چل رہا تھا جو اب تبدیل ہوا ہے اور ایک عام نارمل شخص وزیراعلیٰ پنجاب بنا ہے جس کی وجہ سے پنجاب سے بادشاہت کے نظام کا خاتمہ ہوا ہے اور اراکین اسمبلی سمیت لوگوں کو عزت ملی ہے، پی ٹی آئی کے موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک قابل اور نفیس انسان ہیں جو ہر وقت لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں رہتے ہیں

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

منگل نومبر 00:40

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف صرف نام ہی کے وزیراعلیٰ تھے بلکہ وہ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف صرف نام ہی کے وزیراعلیٰ تھے بلکہ وہ تو ایک بادشاہ تھے کیونکہ کوئی رکن اسمبلی ان کے کمرے میں بھی داخل نہیں ہو سکتا تھا اور آئی جی سمیت چیف سیکرٹری لیول کے بندوں کی انہوں نے عوام کے درمیان بے عزتی کی اور ان کے نزدیک انکے وزراء کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں تھی، پہلے اس قسم کا نظام پنجاب میں چل رہا تھا جو اب تبدیل ہوا ہے اور ایک عام نارمل شخص وزیراعلیٰ پنجاب بنا ہے جس کی وجہ سے پنجاب سے بادشاہت کے نظام کا خاتمہ ہوا ہے اور اراکین اسمبلی سمیت لوگوں کو عزت ملی ہے، پی ٹی آئی کے موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک قابل اور نفیس انسان ہیں جو ہر وقت لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا اپنا کردار ہے جبکہ گورنر پنجاب کا ایک اپنا کردار ہے، لیک ہونے والی ویڈیو میں کوئی خاص بات نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوام نے وزیراعظم عمران خان کو منتخب کیا ، وہی پالیسی بھی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسیوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے، یہ تاثر بھی غلط ہے کہ میڈیا پر کوئی پابندی ہے، ہم نے تو سرکاری میڈیا پر سنسر شپ کا بھی خاتمہ کیا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے پرامن طریقے سے کسی قسم کے تشدد کے بغیر مظاہروں کا خاتمہ کیا اور معاہدے میں آئین و قانون سے ہٹ کے کچھ بھی نہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ پہلی بار ہماری یہ حکومت عید میلادالنبی ﷺ کو سرکاری سطح پر منا رہی ہے اور ہم رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس کر رہے ہیں جس میں دنیا بھر کے علمائے کرام کو جمع کر رہے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نئے بلدیاتی نظام کے لیے کوشاں ہے تاکہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے اور لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر عزم ہیں کہ آئندہ 5 سے 7 ماہ میں بلدیاتی انتخابات ہو جائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگلے 15 سے 20 روز میں جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے اہم ڈویلپمنٹس سامنے آئیں گی اور سب دیکھیں گے کہ انتظامی اقدامات کے حوالے سے ہم درست سمت پر گامزن ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو حکومت کے ماتحت نہیں بلکہ ایک آزاد و خود مختار ادارہ ہے جس کے سرکاری معاملات سے حکومت کا کوئی سروکار نہیں لیکن حکومت کا حصہ ضرور ہے کیونکہ تمام قومی ادارے حکومت کا حصہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی پالیسی ہے کہ کرپٹ عناصر کا احتساب ضرور کیا جائے گا اور یہ ہونا بھی چاہیئے کیونکہ ملک و قوم کا پیسہ لوٹنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جانی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کرپشن کے خلاف کارروائی کے وعدے پر انتخاب لڑا اس لیے ہم کرپشن پر تو ضرور فوکس کریں گے اور کرپٹ عناصر کا احتساب بھی کریں گے۔ چوہدری فواد حسین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کے پہلے 100 روزہ ایجنڈے میں جو کچھ کرنے کا وعدہ کیا تھا ہم اپنے اس ہدف کو پورا کرنے جا رہے ہیں اور انشااللہ 29 نومبر کو وزیراعظم عمران خان حکومت کے پہلے 100 روزہ پلان میں کیے جانے والے بڑے بڑے فیصلوں کا اعلان کریں گے اور سب دیکھیں گے کہ ہم بالکل درست سمت پر گامزن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر اصلاحات بھی مکمل طور پر تیار ہیں جو نظام میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے دن رات کوشاں ہے اور حکومت کی مثبت کوششوں اور موثروکارآمد پالیسیوں کے نتائج بہت جلد عوام کے سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔