امتیاز وزیر کی موجودگی میں شہید طاہر داوڑ پر تشدد کیا جانے کا انکشاف

امتیاز وزیر نہ صرف پی ٹی ایم کا باقاعدہ رکن ہے بلکہ منظور پشتین ، محسن داوڑ اور دیگر کیلئے بطور سہولت کار کام بھی کرتا ہے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس ہفتہ نومبر 22:41

امتیاز وزیر کی موجودگی میں شہید طاہر داوڑ پر تشدد کیا جانے کا انکشاف
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-17 نومبر 2018ء) :ایس ایس پی شہید طاہر داوڑ کو امتیاز وزیر کی موجودگی میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔قومی اخبار کی خبر کے مطابق امتیاز وزیر نہ صرف پی ٹی ایم کا باقاعدہ رکن ہے بلکہ منظور پشتین ، محسن داوڑ اور دیگر کیلئے بطور سہولت کار کام بھی کرتا ہے۔تفصیلات کے مطابق شہید طاہر داوڑ کی شہادت کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔

قومی اخبار کی خبر کے مطابق شہید طاہر داوڑ کو پی ٹی ایم کے کارکنان کے ذریعے افغانستان لے جایا گیا۔جو لوگ شہید طاہر داوڑ کو لے کر گئے انہوں نے پہلے شہید طاہر داوڑ سے دوستی کی اور پھر انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔لاش لینے کے لیے جو کمیٹی بنائی گئی اس میں امتیاز وزیر افغان حکومت کے نمائندے کے طور پر موجود تھا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر یہ بھی سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کس طرح سرکاری اداروں سے پہلے ہی پی ٹی ایم کو طاہر داوڑ کی شہادت کا علم ہو گیا اور انکی تصاویر فیس بک پر پوسٹ کر دی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طاہر داوڑ نے ایک پروگرام میں جب یہ واضح طور پر کہا تھا کہ این ڈی ایس، را اور سی آ ئی اے پشاور میں حالات خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں تو اسی وقت ان کو نشانے پر رکھ لیا گیا تھا ۔مصدقہ ذرائع کے مطابق کئی ایسے ثبوت اور شواہد مل چکے ہیں کہ امتیاز وزیر،محسن داوڑ ،منظور پشتین اور دیگر رہنما آ پس میں پرانے تعلق رکھتے ہیں اور امتیاز وزیر ان کیلئے افغانستان میں بطور سہولت کارکا کام کر رہا ہے ،ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کے مرکزی کرداروں میں امتیاز وزیر بھی ایک اہم کردار ہے ۔

اس حوالے سے مزید یہ کہا جارہا ہے کہ پاکستانی اداروں نے ٹھوس شواہد اکٹھے کر لئیے ہیں۔واضح ہو کہ ایس ایس پی طاہر خان دراوڑ کا تعلق خیبر پختونخواہ پولیس سے تھا۔کچھ روز قبل وہ اسلام آباد دورے پر تھے کہ ان کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات آئی تھیں۔پولیس کی جانب سے بہت کوشش کے باوجود بھی وہ اسلام آباد سے برآمد نہ ہوئے ۔پولیس نے تحقیقات کا دائرہ پھیلاتے ہوئے اس کیس کے تمام پہلووں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کی ۔

تاہم پولیس انکا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔13 نومبر کو سامنے آنے والی خبر کے مطابق ایس ایس پی رورل طاہر خان خٹک کو قتل کر دیا گیا ۔ ایس ایس پی طاہر خان درواڑ کو افغانستان میں قتل کیا گیا۔ انکو اغوا کر کے کچھ دن پنجاب میں رکھا گیا اور پھر میانوالی لے کر جایا گیا۔پھر ایس ایس پی طاہر خان دراوڑر کو بنوں کے راستے افغانستان لے جایا گیا تھا جہاں انکو صوبے ننگرہار میں قتل کیا گیا۔

اس خبر کی تصدیق ہوتے ہی پاکستانی حکام کی جانب سے افغان حکام کے ساتھ رابطہ کیا اور 2 روز کی تگ و دو کے بعد ایس ایس پی طاہر خان دراوڑ کی لاش پاکستانی حکام نے حاصل کر لی ۔وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے خود پاک افغان سرحد پر ایس ایس پی طاہر خان کی لاش وصول کی جبکہ اس موقع پر افغان حکام نے ان کو بھی اڑھائی گھنٹے تک بارڈر پر کھڑا رکھا۔ پاکستان پہنچنے کے بعد ایس پی طاہر داوڑ کی میت خیبرمیڈیکل کالج منتقل کر دی گئی۔اس موقع پر طاہر خان دراوڑ کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔پشاور میں نماز جنازہ کے بعد لاش کو لواحقین کے سپرد کر دیا گیا۔