امریکی صدرکا بیان، پاکستان کےشدید ردعمل پرامریکا کا رابطہ

امریکی حکام نےپاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا ہے، امریکا کو پاکستان کےمزید تعاون کی ضرورت رہےگی، امریکی حکام نےٹرمپ کوپاکستان کی قربانیوں سے آگاہ کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ امریکی سینئرحکام کا تحریری رابطہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل نومبر 18:59

امریکی صدرکا بیان، پاکستان کےشدید ردعمل پرامریکا کا رابطہ
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 نومبر 2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر پاکستان کے شدید ردعمل کے بعد امریکا نے تحریری رابطہ کیا ہے۔ جس میں امریکی حکام نے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا ہے، تحریری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کو پاکستان کے مزید تعاون کی ضرورت رہے گی، امریکی حکام کا صدرٹرمپ کوپاکستان کی قربانیوں سے متعلق آگاہ کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے سخت بیانات اور پاکستان کے سخت ردعمل اوراحتجاج کے بعد امریکی حکومت نے پاکستان سے تحریری طور پر رابطہ کرلیا ہے۔ تحریری رابطے میں سینئر امریکی حکام نے پاکستانی وزارت خارجہ سے سفارتی سطح پررابطے جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

(جاری ہے)

مائیک پومپیو کے دورہ میں کیے گئے فیصلوں پربات جاری رکھنے کی بات کی گئی۔

امریکا کو پاکستان کی جانب سے کیے گئے تعاون کی قدر ہے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ امریکا کو پاکستان کے مزید تعاون کی ضرورت رہے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان رابطہ جاری رکھا جائے گا۔ امریکی حکام نے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا اور وعدہ کیا کہ امریکی صدرٹرمپ کو دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔ یاد رہے امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر وزیراعظم عمران خان نےشدید ردعمل دیا۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو پاکستان سے متعلق اپنا ریکارڈ درست کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا۔ پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو123ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔جبکہ امریکا نے پاکستان کو صرف 20ارب کی امداد دی ہے۔

پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 75ہزار قربان کی ہیں۔ امریکا پاکستان کواپنی ناکامیوں پرقربانی کا بکرا بنانے کے بجائے اپنا محاسبہ کرے۔ امریکا پتا کرے 1لاکھ 40 ہزارنیٹوافواج، اڑھائی لاکھ افغان فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود جنگ کیوں نہ جیتی؟ ایک رپورٹ کیمطابق امریکا نے افغان جنگ میں 1 کھرب ڈالر خرچ کیے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوچکے ہیں۔

ہمارے قبائلی علاقے تباہ ہوئے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ اس جنگ نے پاکستان میں عام شہریوں کی زندگیوں بہت متاثر کیا۔ کیا ٹرمپ کسی اور اتحادی کی قربانی کی اتنی مثال دے سکتے ہیں؟ پاکستان نےامریکا کو زمینی اورفضائی راستے مہیا کیے۔ اسی طرح اب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی بھرپور ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عزت وسلامتی سب سے بڑی چیز ہے۔

پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ کامیابی سے لڑی ہے۔ پاکستان نے علاقائی استحکام کیلئے سب سے اہم کردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کودہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کی خدمات تسلیم کرنی چاہئیں۔ پاکستان نے افغانستان میں بھی امن کیلئے سب سے زیادہ کردار ادا کیا۔ پاکستان خطے میں قیام امن کیلئے کوششیں جاری رکھے گا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہم نے فوجی، اقتصادی، سیاسی اور سماجی طور پر سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

دنیا دہشتگردی کیخلاف ہماری قربانیوں کو تسلیم کرے۔ واضح رہے ہم پاکستان کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑڈالر سے زیادہ دیتے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ہم پاکستان کوسپورٹ کررہے تھے اوراسامہ بن لادن وہاں رہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کی یہ امداد اس لیے بند کی کیوںکہ پاکستان نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔