اب وہ کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہوگا ،ْوزیراعظم کا امریکہ کو دو ٹوک جواب

امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر باقاعدہ تعلقات چاہتے ہیں ،ْایسے تعلقات کبھی نہیں چاہیں گے جس میں پیسے دے کر جنگ لڑنے یا پاکستان کے ساتھ خریدی گئی بندوق جیسا برتاؤ کیا جائے، اگر آپ امریکہ کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ امریکہ کے خلاف ہیں ،ْ ٹرمپ کو ٹوئٹر پر جواب دینے کا مقصد ریکارڈ درست کرنا تھا ،ْافغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے جس کیلئے ہم بھرپور تعاون کریں گے ،ْ اگر ہم امریکی جنگ میں نہ پڑتے تو خود کو تباہی سے بچا سکتے تھے، پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جہاں سے دہشت گردوں کی آمدو رفت مشکل ہے ،ْبھارتی برسر اقتدار جماعت پاکستان مخالف اور مسلم دشمن ہے ،ْامید ہے بھارت میں انتخابی عمل کے بعد ان سے دوبارہ مذاکرات شروع کرسکیں گے ،ْامریکی اخبار کو انٹرویو

جمعہ دسمبر 18:10

اب وہ کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہوگا ،ْوزیراعظم کا امریکہ کو دو ٹوک ..
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کرائے پر لی ہوئی بندوق نہیں، اب ہم وہ کریں گے جو ہمارے مفاد میں بہتر ہوگا ،ْامریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر باقاعدہ تعلقات چاہتے ہیں ،ْایسے تعلقات کبھی نہیں چاہیں گے جس میں پیسے دے کر جنگ لڑنے یا پاکستان کے ساتھ خریدی گئی بندوق جیسا برتاؤ کیا جائے، اگر آپ امریکہ کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ امریکہ کے خلاف ہیں ،ْ ٹرمپ کو ٹوئٹر پر جواب دینے کا مقصد ریکارڈ درست کرنا تھا ،ْافغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے جس کیلئے ہم بھرپور تعاون کریں گے ،ْ اگر ہم امریکی جنگ میں نہ پڑتے تو خود کو تباہی سے بچا سکتے تھے، پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جہاں سے دہشت گردوں کی آمدو رفت مشکل ہے ،ْبھارتی برسر اقتدار جماعت پاکستان مخالف اور مسلم دشمن ہے ،ْامید ہے بھارت میں انتخابی عمل کے بعد ان سے دوبارہ مذاکرات شروع کرسکیں گے۔

(جاری ہے)

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کی جنگ لڑتے ہوئے بہت زیادہ نقصان اٹھایا تاہم اب پاکستان امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر باقاعدہ تعلقات چاہتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ امریکہ سے ایسے تعلقات کبھی نہیں چاہیں گے جس میں پیسے دے کر جنگ لڑنے یا پاکستان کے ساتھ خریدی گئی بندوق جیسا برتاؤ کیا جائے، ہم خود کو دوبارہ اس پوزیشن میں نہیں ڈالیں گے، اس سے انسانی جانوں کا ضیاع، ہمارے قبائلی علاقوں کی تباہی اور ہمارا وقار مجروح ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ باقاعدہ تعلقات چاہتے ہیں، چین کے ساتھ ہمارے یکطرفہ تعلقات نہیں، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بھی ہیں اور ہم اسی طرح کے تعلقات امریکہ سے بھی چاہتے ہیں۔وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ'آپ امریکہ کے بہت مخالف ہیں جس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر آپ امریکہ کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ امریکہ کے خلاف ہیں ،ْیہ سامراجی سوچ ہے کہ آپ میرے ساتھ ہیں یا میرے خلاف۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہوں کا الزام لگایا تھا، جب حکومت میں آیا تو سیکورٹی فورسز سے مکمل بریفنگ لی اور وقتاً فوقتاً امریکہ سے کہا کہ بتائیں پاکستان میں پناہ گاہیں کہاں ہیں تاکہ اسے چیک کریں، پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ٹوئٹ اور اس پر جواب سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ٹوئٹر پر ٹرمپ کو جواب دینے کا مقصد ریکارڈ درست کرنا تھا، جواب میں لکھا تھا کہ امریکی صدر کو تاریخی حقائق پتہ ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہرزہ سرائی کا سوشل میڈیا پر جواب ٹوئٹر جنگ نہیں تھی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لکھے گئے خط کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے جس کے لیے ہم بھرپور تعاون کریں گے، یہ ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ افغانستان کا 40 فیصد حصہ افغان حکومت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔

امریکی حکام کہتے ہیں پاکستان طالبان رہنماؤں کو پناہ دیتا ہے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ ان الزامات کو نہیں سمجھ سکے، ایسا ملک جس کا ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملوں سے کوئی تعلق نہیں، کوئی پاکستانی اس میں ملوث نہیں، القاعدہ افغانستان میں ہے، اس کے باوجود پاکستان کو کہا گیا امریکی جنگ کا حصہ بنیں۔وزیراعظم نے کہا پاکستان میں مجھ سمیت بہت سے لوگوں نے امریکی جنگ کی مخالفت کی، اگر ہم اس جنگ میں نہ پڑتے تو خود کو تباہی سے بچا سکتے تھے، امریکہ کا اتحادی بننے کے بعد پاکستان نے 80 ہزار جانوں کو نذرانہ پیش کیا، تقریباً 150 بلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، نہ ہی سرمایہ کار اور نہ ٹیمیں یہاں آرہی ہیں اور پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک بھی قرار دیا گیا۔

امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی اور مسئلہ کے حل کیلئے کسی نتیجے پر پہنچنے سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا فوجی حل نہیں اور یہ بات کہنے پر انہیں طالبان خان بھی کہا گیا، اگر آپ امریکہ کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے تو آپ امریکہ مخالف بن جاتے ہیں۔ لیکن اب میں خوش ہوں کہ ہر کسی نے تسلیم کیا کہ افغان مسئلے کا سیاسی حل ہے، ہم نہیں چاہیں گے کہ امریکہ افغانستان سے جلد بازی میں نکلے جس طرح اس نے 1989 میں کیا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 1989 میں جب سویت یونین افغانستان سے نکلا تو امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا تھا، امریکہ افغانستان میں پہلے حالات ٹھیک کرے پھر تعمیر نو کیلئے بھی اس کی ضرورت ہوگی۔وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ امریکہ کی سیاسی جماعتیں اور حکومت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پاکستان کی گزشتہ حکومتوں نے ان سے جھوٹ بولا اس کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا انہیں غلط اطلاعات فراہم کی گئیں ،ْکیا یہ ممکن ہے کہ انسانی تاریخ کی سب سے مضبوط فوج، جدید ہتھیاروں سے لیس ڈیڑھ لاکھ نیٹو فوجی اور ایک ٹریلین ڈالر لگانے کے بعد بھی کہا جائے کہ چند ہزار پاکستانی باغی افغانستان میں جنگ کی ناکامی کی وجہ ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں 27 لاکھ افغان مہاجرین اب بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں، پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جہاں سے دہشت گردوں کی آمدو رفت مشکل ہے۔بھارت سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی برسر اقتدار جماعت پاکستان مخالف اور مسلم دشمن ہے، وہاں عام انتخابات ہونے والے ہیں اسی لیے ہماری دوستانہ کاوشوں کو رد کیا جارہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دوستانہ کاوشوں کے تحت ہی ہم نے کرتار پور پر ویزا فری کوریڈور کھولا، امید کرتے ہیں کہ بھارت میں انتخابی عمل کے بعد ان سے دوبارہ مذاکرات شروع کرسکیں گے۔