بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت کے مطالبے سے باز رکھنے کیلئے فوجی طاقت کاوحشیانہ استعمال کررہا ہے، اشرف صحرائی

جمعرات دسمبر 16:56

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 دسمبر2018ء) مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت جموںوکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت کے مطالبے سے باز رکھنے کیلئے فوجی طاقت کا بے پناہ استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمران جموںوکشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے 1947سے جھوٹ، دھو کہ دہی، مکاری اور فریب کاری کی سیاست کر رہے ہیں۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محمد اشرف صحرائی نے سرینگر میںجاری ایک بیان میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں سوپور میں شہید ہونے والے دو نوجوانوںکو شاندار خراج عقیدیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی عظیم قربانیان ایک روز ضرور رنگ لائیں گی۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی فوجیوںنے گزشتہ 71برسوں کے دوران 6لاکھ سے زائد کشمیریوںکو شہدا، ہزاروں کو لاپتہ اور اربوں روپے کی املاک تباہ کیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیری خواتین کی آبرو ریزی کو جنگ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا حالیہ برسوں کے دوران مہلک پیلٹ بندوق کا استعمال کر کے سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو بصارت سے محروم کر دیا گیا۔ انہو ںنے کہا کہ شیر خوارکشمیری بچوں تک کو پیلٹ مارے جارہے ہیں۔محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ اس وقت ہزارں کشمیری حق خود ارادیت مانگنے کی پاداش میں جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند ہیں۔

انہوںنے کہا کہ کشمیر مکمل طور پر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ حاضر سروس اور ریٹائیر بھارتی فوجی آفسر بھی کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے فوجی طاقت کی بنیاد پر حل نہیں کیا جاسکتا لیکن اپنے فوجی افسروں کے ان بیانات کے باوجود بھارتی حکمران جموں کشمیر میں انسانی خون بہانے کے درپے ہیں۔ انہوںنے شہیدنوجوانوں کے اہلخانہ کے ساتھ بھر اظہار یکجہتی کیا۔

متعلقہ عنوان :