اسد عمر نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر برطانوی ٹی وی اینکر کو کرارہ جواب دے کر لاجواب کردیا

جمعرات دسمبر 23:26

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 دسمبر2018ء) وفاقی وزیر برائے خزانہ اسد عمر نے جمال خا شقجی کے ترکی میں قتل کے بعد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات رکھنے کے سوال پر برطانوی ٹی وی کے اینکر کو کرارہ جواب دے کر لاجواب کردیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے برطانوی اینکر کو جواب سے دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر خوشگوار تعلقات کو خواہاں ہے ، تاہم ان بین الاقوامی راہنمائوں کو شرم آنی چاہیے جو سرعام سعودی عرب کے ساتھ کروڑوں ڈالر کے معاشی معاہدوں کے دعوے کرتے ہیں اور انہیں شرم نہیں آتی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے اینکر نے اسد عمر سے جواب کیا کہ ترکی میں سعودی سفارت خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے تشدد اور قتل کیا گیا جس پر پوری دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودی حکام پر سخت تنقید کی اور غیر انسانی قتل کی مذمت کی ۔

(جاری ہے)

جبکہ پاکستانی وفد وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں سعودی عرب میں ہونے والی بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کیلئے پہنچ گیا اور سعودی عرب سے تقریبا 6ارب ڈالر کی امداد حاصل کی ، کیا آپ کو ایسا کام کرنے پر شرم نہیں آنی چاہیے تھی۔

جس کے جواب میں وزیرخزانہ نے کہا کہ میں اپنے ساتھ ایسے ملک کے ساتھ ضرور شرم آتی جس کے ساتھ ہمارے کئی سالوں سے تعلقات ہیں اور پاکستان نے مختلف حالات میں ملکر کام کیا۔مگر پاکستان نے کبھی اس ملک کی پالیسی پر لیکچر نہیں دیا۔انہوںنے کہا کہ مغربی قیادت کو اس بات پر شرمسار ہونا چاہیے۔ جس جمہوریت کے دعویدار ہیں اور آزادی رائے پر بھاشن دیتے ہوئے نہیں تھکتے ۔

اور اس کے بعد سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں۔اسد عمر نے کی مغربی دنیا کے راہنماء صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں اور جمال خاشقجی کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں۔مگر پاکستان سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر تعلقات قائم ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے عسکری تعلقات بھی موجودہیں اوریہ تعاون جاری رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شمیم محمود،