کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ چودھواں عالمی کتب میلہ، کتب بینک کا شوق رکھنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ

جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے روس اور پاکستان کے درمیان ایک نئے تعلقات کا آغاز ہو چکا ہے، تعلیمی شعبے میں بھی دونوں ممالک باہمی تعلقات کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، روسی قونصل جنرل

پیر دسمبر 21:32

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 دسمبر2018ء) کراچی ایکسپو سینٹر میں پاکستان پبلیشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے تحت منعقدہ چودھواں عالمی کتب میلہ میں کتب بینک کا شوق رکھنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہاہے۔آج منگل کو پانچ روزہ نمائش کا آخری دن ہے۔ پیر کو بک فیئر کے چوتھے دن روس کے قونصل جنرل ڈاکٹر الیگزینڈر کوزن(Dr,Aleksandr Khozin)،سابق صوبائی وزیر تعلیم سندھ پیر مظہر الحق ،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ممتاز بھٹو ،ایم کیو ایم کے رہنماں سید سردار احمد ،خواجہ اظہار الحسن ، فیصل سبزوار ی سمیت مختلف علمی اور ادبی شخصیات نے دورہ کیا اورملکی و غیر ملکی پبلیشرز کی کتابوں میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔

بک فیئر میں آنیوالی سیاسی ،مذہبی و سماجی شخصیات کا استقبال پاکستان پبلیشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد ،کے آئی بی ایف کے کنوینئر اویس مرزا جمیل ،ڈپٹی کنوینئر وقار متین کر رہے تھے ۔

(جاری ہے)

بک فیئر کے دورے کے بعدمنتظمین سے گفتگو کرتے ہوئے روس کے قونصل جنرل ڈاکٹر الیگزینڈر کوزن(Dr,Aleksandr Khozin) نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے روس اور پاکستان کے درمیان ایک نئے تعلقات کا آغاز ہو چکا ہے ضرورت اس امر کہ تعلیمی شعبے میں بھی دونوں ممالک باہمی تعلقات کو مضبوط اور مستحکم کریں ،انہوں نے بک فیئر کو سراہتے ہوئے منتظمین کو یقین دلایا کہ وہ مستقبل میں بھی رسمی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان اور روس کے پبلیشرز اس شعبے میں مواقع تلاش کریں تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی علمی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر تعلیم سندھ پیر مظہر الحق نے کہا کہ بک فیئر میں شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ پاکستانیوں کی کتاب وعلم سے محبت برقرار ہے یہا ں سے کتابیں خریدنے والے پیسہ خرچ نہیں کر رہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص کے کتاب پڑھنے سے پورا گھر یا خاندان علم کی روشنی سے منور ہوتا ہے ،انہوں نے منتظمین کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ 14برسوں سے مستقل بنیادوں پرنمائش کا انعقاد خوش آئند ہے لوگ کتابوں کی نمائش میں آکر زندہ دل ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں ۔ پاکستان پبلیشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد نے صحافیو ں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک چھت کے نیچے کتابوں سے محبت کرنے والوں کو جمع کرناآسان کام نہیں اس کے پیچھے گذشتہ 15سالوں کی محنت ہے۔

5روزہ نمائش منعقد کرنے کیلئے ہمیں360کام کرنا پڑتا ہے یہاں صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ دنیا بھر کی نامور کتب موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب میں نے دہلی بک فیئر کو دیکھا تو عجیب لگامجھے بے انتہا شرمندگی ہوئی کہ ہم ہندوستان کا حصہ تھے اور ہم اس کے ساتھ آزاد ہوئے ہیں آج وہاں 13ہال پر بک فیئر لگتا ہے جہاں بڑے بڑے پبلشرز آتے ہیں اس سوچ نے مجھے بیتاب کیا اور پھر اسی چوچ کو پروان چڑھا کر آج یہاں چودھواں کتب میلہ سجا کر بیٹھے ہوئے ہیں یہ ایک دن یا ایک فرد کا کام نہیں ہے یہ ٹیم ورک ہے پاکستان بک سیلرز اینڈ پبلشرز ایسو سی ایشن کے نمائندے اور رکن ہر سال اپنا حصہ ڈالتے۔ علاوہ ازیں نمائش میں طلبا وطالبات کی دلچسپی کے لیے ہم نصابی سرگرمیوں کا سلسلہ پیر کے روز بھی جا ری رہا۔