پیراگون ہائوسنگ سوسائٹی کیس ،نیب کی طرف سے خواجہ برادران کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی گئی

احتساب عدالت نے خواجہ سعد رفیق ،سلمان رفیق کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا،دونوں کو 16فروری کو دوبارہ پیش کرنے کاحکم

ہفتہ فروری 15:00

پیراگون ہائوسنگ سوسائٹی کیس ،نیب کی طرف سے خواجہ برادران کے مزید جسمانی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2019ء) احتساب عدالت نے پیراگون ہائوسنگ سوسائٹی کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد اور انکے بھائی سابق صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے دنوں کو 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیدیا ۔نیب لاہور نے پیراگون ہائوسنگ سوسائٹی کیس میں خواجہ برادران کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر انہیں سخت سکیورٹی میں احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن کی عدالت میں پیش کیا ۔

نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے موقف اختیار کیا کہ نیب کو ملزمان سے مزید تفتیش کرنی ہے، اس لئے ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7 روز کا اضافہ کیا جائے۔ تاہم خواجہ براردان کے وکیل امجد پرویز نے نیب کی طرف سے جسمانی ریمانڈ میں 6ویں بار توسیع کی درخواست کی مخالفت کی ۔

(جاری ہے)

عدالت نے فریقین کے موقف سننے کے بعد خواجہ برادران کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی نیب کی درخواست مسترد کر دی۔

عدالت نے سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کو 14روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ کے بعد خواجہ برادران کو 16 فروری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ نیب کے پاس ہمارے خلاف کچھ نہیں تھا، سو بار بھی پوچھتے تو کچھ برآمد نہ ہوتا،جو بھی شہریوں کے حقوق کی بات کرے اسکے خلاف ہمارے ملک میں بدقسمتی سے یہی کچھ ہوتا ہے، آئین اور قانون پر چلنے کی وجہ سے ہمارے ساتھ ایسا کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ہمارے پروڈکشن آرڈرز روکنے کے لیے شدید حکومتی دبائو کا سامنا کر رہے ہیں، پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنا منتخب ایوان کی توہین ہے۔ حکومت نے پچھلے سیشن میں اپوزیشن کے احتجاج سے خوفزدہ ہو کر قومی اسمبلی کا اجلاس لمبے عرصے کے لئے ملتوی کر دیا، وزیراعظم اور ان کے بعض ساتھیوں نے اسمبلی کی حرمت کو کبھی تسلیم نہیں کیا، حکومت قومی اسمبلی کو اسکول کی اسمبلی بنانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں میری نمائندگی کے بعد میرا نوٹیفکیشن روکے رکھنا پارلیمانی روایت کے منافی ہے، تحریک انصاف کی حکومت کا انتقامی رویہ ایسا ہی رہا تو یہ لوگ جلد سیاست کے پاتال تک پہنچ جائیں گے۔ خواجہ برادران کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ۔احتساب عدالت کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی اور عدالت کی جانب آنے والے تمام راستوں کو کنٹینرز اور خاردار تاریں لگا کر سیل کیا گیا ۔

اس کے ساتھ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے اینٹی رائٹ فورس اور خواتین پولیس اہلکار بھی احتساب عدالت کے اطراف میں تعینات رہیں۔کارکنوں نے احتساب عدالت داخل ہونے کی کوشش کی تو پولیس نے کارکنوں کو داخل ہونے سے روک دیاجس پر لیگی کارکنوں کی پولیس سے دھکم پیل بھی ہوئی۔نیب حکام خواجہ برادران کو احتساب عدالت سے لیکر روانہ ہوئے تو مرکزی گیٹ پر لیگی کارکنوں نے بھرپور نعرے بازی کی ۔کارکن گاڑی کے آگے کھڑے ہوکر اور ساتھ جاتے ہوئے نعرے لگا تے رہے ۔واضح رہے 11 دسمبر کو لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی عبوری ضمانت خارج کردی تھی، جس کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب )نے دونوں بھائیوں کو حراست میں لے لیا تھا۔