مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے میں را اور این ڈی ایس کے ملوث ہونے کا انکشاف

موٹرسائیکل سواروں نے تقی عثمانی کی گاڑی پر فائرنگ کی، تاہم وہ محفوظ رہے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ مارچ 16:32

مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے میں را اور این ڈی ایس کے ملوث ہونے کا ..
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 22 مارچ 2019ء) : کراچی میں مولانا تقی عثمانی پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی ایجنسی این ڈی ایس کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایڈشنل آئی جی کراچی کا کہنا ہے کہ مولانا تقی عثمانی پر حملے میں این ڈی ایس اور را کے ملوث ہونے کا خدشہ ہے۔ تقی عثمانی کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بھی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔

واضح رہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھاکہ چونکہ بھارت اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہو گیا ہے لہٰذا پاکستان کا امن خراب کرنے کے لیے بھارت کی خفیہ ایجنسی را این ڈی ایس اور دیگر پاکستان مخالف قوتوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں کوئی کارروائی کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ کچھ دیر قبل کراچی میں دو موٹرسائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نے یونیورسٹی روڈ پر نیپا چورنگی کے قریب ٹویوٹا کرولا کار پر فائرنگ کی۔

مفتی تقی عثمانی نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ان پر چاروں طرف سے فائرنگ کی گئی مگر خدا نے انہیں محفوظ رکھا ۔ معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے،جبکہ ان کے گارڈ اور ڈرائیور جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق کراچی کے علاقہ نیپا چورنگی کے قریب ایک کار پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہو گیا۔

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے سکیورٹی گارڈ کی شناخت صنوبرخان کے نام سے ہوئی ہے جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں مولانا شہاب اللہ بھی جاں بحق ہو گئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے شخص کی شناخت دارالعلوم کورنگی کے مولانا عامر شہاب کے نام سے ہوئی جنہیں زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ کے بعد علاقہ کو گھیرے میں لے لیا گیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فائرنگ کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈشنل آئی جی کو شہر بھر کی سکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گاڑی پر فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کی ہدایات بھی کی ہے۔ کراچی میں 15 میں آج فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے جس میں مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔