Live Updates

بلاول کو ”صاحبہ“کہنے پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی

پیپلزپارٹی کی خواتین ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیراﺅ کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات اپریل 14:12

بلاول کو ”صاحبہ“کہنے پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 25 اپریل۔2019ء) قومی اسمبلی کے اجلاس میں آج پھر گرما گرمی جاری ہے، خواتین وزیر اعظم کے بلاول بھٹو زرداری کو صاحبہ کہنے کے بیان پراحتجاج کررہی ہیں. وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کی خواتین ارکان کی جانب سے شور شرابا کیا گیا اور ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے.

پاکستان پیپلزپارٹی کی راہنما شازیہ مری کا خواتین ارکان کےساتھ اسپیکر ڈائس کا گھیراﺅ کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں. دوسری جانب اپوزیشن کی خواتین ارکان نے وزیر اعظم عمران خان کے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو صاحبہ کہنے کے بیان پر احتجاج بھی کیا‘ پیپلز پارٹی کی رکن نفیسہ شاہ نے وزیراعظم عمران خان سے ایوان میں آکر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر انہوں نے معافی نہیں مانگی تو میں کہوں گی کہ وہ میرے وزیرا عظم نہیں ہیں.

نفیسہ شاہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وانا میں جو کہا وہ وزیر اعظم کے عہدے کی تذلیل ہے، انہوں نے نئے پاکستان کی جدوجہد کو سلپ آف ٹنگ قراردے دیا. نفیسہ شاہ نے کہا کہ کل قبائلی علاقوں میں وزیراعظم نے پگڑی پہن کر جو حرکت کی ہم اس کی مذمت کرتے ہیں‘ صاحبہ کا لفظ استعمال کرنے پرخواتین کی تذلیل ہوئی‘ہم نہیں مانتے کہ یہ سلپ آف ٹنگ تھی.

دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے احتجاج کے دوران انتخابات ترمیمی بل 2019 منظور کرلیا گیا، بل وزیر مملکت علی محمد خان کی جانب سے پیش کیا گیا جسے ایوان نے منظور کرلیا. دریں اثناءوفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے کوئٹہ تک سڑک پر کام شروع کر دیا ہے، بلوچستان میں بھی سڑک بنا رہے ہیںشاہراہوں پر حادثات کی روک تھام کے لیے پالیسی تشکیل دی ہے.

انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ بھی وعدے ہوئے تھے پیسہ نہیں تھا، سب سے زیادہ منصوبے صوبہ بلوچستان میں آ رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ کراچی سے کوئٹہ تک سڑک پر کام شروع کر دیا ہے، بلوچستان میں بھی سڑک بنا رہے ہیں‘ شاہراہوں پر حادثات کی روک تھام کے لیے پالیسی تشکیل دی ہے. مراد سعید نے کہا کہ پالیسی پر صوبوں سے مشاورت ہو رہی ہے، بڑی شاہراہوں پر 100 کلو میٹر بعد ٹول ٹیکس پلازے بنائیں گے۔

(جاری ہے)

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی آمدن 100 ارب تک بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ چکدرہ سے چترال تک شاہراہ کو سی پیک مغربی روٹ کا حصہ بنا لیا گیا، اس سڑک کو عالمی معیار کے مطابق بنائیں گے صوبائی حکومت نے شاہراہ کی تعمیر کے لیے این او سی دے دی ہے. خیال رہے کہ اس سے قبل وزارت مواصلات میں آڈٹ کے ذریعے 353 ملین روپے کی کرپشن پکڑی گئی تھی جو قومی خزانے میں واپس کردی گئے. مراد سعید کے مطابق اس سے پہلے ان کی وزارت قوم کے 445 کروڑ روپے قومی خزانے میں واپس لا چکی ہے اور اب 353 ملین روپے مزید خزانے میں واپس لائے گئے. انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ قوم کا پیسہ لوٹنے والوں سے بالکل رعایت نہیں برتیں گے اور عوام کا پیسہ ہر صورت قومی خزانے میں واپس لائیں گے.
وزیراعظم حاضر ہے سے متعلق تازہ ترین معلومات