مقبوضہ کشمیر میں نافذکالا قانون ’’پبلک سیفٹی ایکٹ‘‘ فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

بدھ جون 17:05

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جون2019ء) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں نافذ کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون قابض انتظامیہ اور مقامی آبادی کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس ای) فوجداری نظام عدل میں رکاوٹ کا سبب ہے اور اس سے شہریوں کو انصاف کی فراہمی نہیں ہوتی۔

قابض انتظامیہ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو پبلک سیفٹی یکٹ کے حوالے سے بدھ کے روز سرینگر میں ایک رپورٹ جاری کرنے سے روک دیا جس کے بعد عالمی ادارے نے میڈیا اداروں کو مذکورہ رپورٹ ای میل کی۔ رپورٹ میں 2012ء سے 2018ء کے دوران کالے قانون پی ایس اے کے تحت قید کیے جانے والے 210قیدیوں کا مطالعہ پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ مذکورہ قانون کے تحت کسی شہری کو کم از کم دو برس تک بغیر کسی عدالتی ٹرائل کے قید رکھا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں 42 برس سے نافذ العمل پی ایس اے کاجائزہ لیتے ہوئے کہا گیا کہ اس قانون کے باعث انسانی حقوق کے حوالے سے بھارتی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارتی شاخ کے سربراہ آکار پاٹل نے کہا کہ پی ایس اے قابض انتظامیہ اور کشمیریوں کے درمیان کشیدگی کو فروغ دے رہا ہے لہذا اسے فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس اے کے سبب قیدیوں کا منصفانہ ٹرائل نہیں ہوتا، قیدیوں کو مسلسل سلاخوں کے پیچھے رکھنے کے لیے ان پر نئے مقدمات میں پی ایس اے عائد کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2018ء میں پی ایس اے میں ترمیم کی گئی جس کے سبب اب قیدیوں کو اپنے گھروں سے دور دراز کی جیلوں میں رکھا جاتا ہے جو انسانی حقوق کے عالمی اصول و ضوابط کے منافی ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ قابض انتظامیہ کو تمام غیر قانونی نظر بندیوں اور زیر حراست تشدد کے واقعات کی فوری ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنی چاہئیںاور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔