مقبوضہ کشمیر، میر واعظ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ، جامع مسجد سرینگر میں جمعہ کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی، عوامی مجلس عمل کی مذمت

جمعہ جولائی 19:35

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جولائی2019ء) مقبوضہ کشمیرمیں حریت فورم اور عوامی مجلس عمل نے اپنے سربراہ میر عمر فاروق کو سرینگر میں اپنی رہائش گاہ پر نظر بند کرنے، ان کی سیاسی و دینی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے اور سرینگر کی تاریخی جامع مسجد سرینگر کو ایک بار پھر سیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو مسجد میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی سے روکنے کی شدید مذمت کی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت فورم اور عوامی مجلس عمل کی طرف سے سرینگر میں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی اورمیرواعظ کو اپنی منصبی ذمہ داریوں سے روکنے کا عمل کشمیری مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے۔بیان میں کہاگیا کہ میر واعظ کو تیرہ جولائی کے یوم شہداء کے پروگرام کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے تنظیم کے مرکزی دفتر میرواعظ منزل سرینگر پر تنظیم کی ایک ورکرس ریلی کی قیادت کرنا تھی لیکن قابض انتظامیہ نے انہیں اپنی رہائش گاہ میں نظر بند کر دیا جو ایک انتہائی مذموم، غیر جمہوری، غیر اخلاقی اور اظہار رائے کی آزادی کا گلہ گھونٹنے کے مترادف عمل ہے۔

(جاری ہے)

بیان میں 13 جولائی1931 کے شہداء کو شاندرار خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ان عظیم شہدائ کی قربانیوں کو کشمیریوں کی رواں جدوجہد آزادی کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ کشمیریوں کے حق خوداردیت کی تحریک 1931 سے آج تک مختلف مراحل سے گذرتی ہوئی اب ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ان لاکھوں شہداء کی قربانیوںکا ہی نتیجہ ہے کہ یہ تحریک مختلف صبر آزما مراحل ، مشکلات اور مصائب کے باوجود عالمی سطح پر ایک منفرد مقام اور پذیرائی حاصل کرچکی ہے اور ان قربانیوں کی بدولت ہی مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کو اس خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر سمجھا جارہا ہے۔

بیان میں یہ بات زو ر دیکر کہی گئی کہ طے شدہ پروگرام کے تحت کل بروز ہفتہ میرواعظ کی قیادت میں مرکزی جامع مسجد سرینگر سے بعد نماز ظہر مزار شہداء نقشبند صاحب کی طرف ایک پرامن جلوس نکالا جائیگااور تیرہ جولائی کے شہداء کو شایان شان طریقے پر خراج عقیدت پیش کیا جائیگا۔