ڈائو یونیورسٹی میں" سمٹ فار ینگ ای این ٹی ریذینٹس--"کا انعقاد

منگل جنوری 16:39

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جنوری2020ء) ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا ہے کہ یونیورسٹی طبی ریسرچ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور اس کے لیے مالی وسائل بھی فراہم کئے جاتے ہیں، ریسرچ کے لیے خطیر رقم درکار ہوتی ہے، حکومت کے ساتھ ساتھ ڈائو المنائی بھی اسکے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے ۔

ڈائو یونیورسٹی فیکلٹی کی جانب سے کان کے پردے کے آپریشن میں اہم پیش رفت خوش آئند ہے، جس میں کان کے پردے کا آپریشن انڈواسکوپی کے ذریعے کیا جا رہا ہے، سول اسپتال کے شعبہ ای این ٹی میں کان کے پردے کے انڈو اسکوپی کے ذریعے بارہ آپریشن کئے جا چکے ہیں، جو مفت کئے گئے ہیں، انہوں نے یہ باتیں ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے آراگ آڈیٹوریم میں ڈاکٹر کے ایم رتھ فائو سول اسپتال کراچی کے شعبہ ای این ٹی اور پاکستان سوسائٹی آف اوٹورہینولرنلوجی کے اشتراک سی" سمٹ فار ینگ ای این ٹی ریذینٹس--"میں بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہیں ،کانفرنس سے ان کے علاوہ مہمانِ اعزازی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق رفیع ، ڈائو میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر امجد سراج میمن، چئیر پرسن سمٹ فار ینگ ای این ٹی ریذینٹس- پروفیسر شجاع فرخ ، سیکریٹری سمٹ ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی سینئر پروفیسر اقبال خیانی نے بھی خطاب کیا، جبکہ اس موقع پر ڈائو یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر پروفیسر زرناز واحد، ڈائو یونیورسٹی کی وائس پرنسپل ڈاکٹر شمائلہ خالد، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ای این ٹی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرسمیر قریشی سمیت کراچی کے تما م تدریسی یونیورسٹی کے سینئر ای این ٹی ماہرین سمیت طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ ای این ٹی ینگ ڈاکٹرز کے لیے اس سمٹ کا انعقاد خوش آئند ہے، اس کانفرنس سے نوجوان ڈاکٹرز میں ریسرچ کا شوق پیدا ہوگا اور اسکی بدولت انہیں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتیوں کو نکھارنے میں بھی مدد ملے گی اور اپنی کمزوریوں پر قابو پاسکیں گے، انہو ں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں گذشتہ برسوں کے دوران پاکستان کے سرکاری شعبے کے ڈاکٹرز کی کمیونیکیشن اسکلز پر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں، مگر آج 20منتخب نوجوان ڈاکٹرز کو جس انداز میں اپنے مقالے پیش کرتے ہوئے دیکھا ، اس سے لگتا ہے کہ آئندہ کوئی بھی ہمارے نوجوان ڈاکٹرز کی کمیونیکیشن اسکلز پر بات کرنے کی جرات نہیں کرے گا،انہو ںنے ای این ٹی کے شعبے کی جانب سے ینگ ڈاکٹرز سمٹ کرانے پر مبارک باد دی اور نیک تمنائو ں کا اظہار کیا، مزید کہا کہ دوسرے ڈیپارٹمنٹ بھی ینگ ڈاکٹرز کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلیے ایسے ہی پروگرام منعقد کرائیں ،ہم ایسی کاوشوں میں بھر پور تعاون کرینگے۔

(جاری ہے)

اس موقع پرمہمانِ اعزازی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید محمدطارق رفیع نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز سمٹ کا کراچی میں انعقادقابلِ فخر ہے، اس کا مقصد ملٹی میڈیا کے اس دور میں کتابوں سے جو رغبت کم ہوتی جارہی ہے، اس پروگرام سے ینگ ڈاکٹرز میں پڑھنے ،سیکھنے اور جاننے کا شوق بھی پروان چڑھے گا، آج کی سمٹ میں کراچی بھر کے تمام میڈیکل کالجز کے ای این ٹی ڈاکٹرز نے شرکت کی ہے،یہ اپنے طرز کی پہلی منفرد کانفرنس ہے جس میں ینگ ڈاکٹرز کو اپنے تحقیقی مقالے سینئر ز کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا۔

اس سے پاکستان میںتحقیق کے کلچر کو فروغ دینے میںمدد ملے گی اور ماہانہ اجلاس اس سلسلے میں یقینا اہم کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر ڈائو میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر امجد سراج میمن نے کہا کہ ڈائو میڈیکل کالج میں ینگ ای این ٹی سمٹ کا انعقاد ہمارے لیے ایک اعزاز کی بات ہے، اس موقع پر سمٹ کے چئیر پرسن پروفیسر شجاع فرخ نے کہا کہ سول اسپتال میں بہترین ای این ٹی کے ڈاکٹر ز اور سرجن موجود ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ قابلیت ہمارے نوجوان ڈاکٹرز میں بھی صلاحیت منتقل ہوجائے، پاکستان ای این ٹی سوسائٹی بھی اس سلسلے میں 1981سے مستقل مختلف پروگرام ملک بھر میں منعقد کراتی ہے، ینگ ڈاکٹرز کے لیے پہلی با ر اس قسم کی سمٹ کرائی جارہی ہے، سمٹ میں آغاخان یونیورسٹی ، ضیا ء الدین ، ہمدرد میڈیکل یونیورسٹی ، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی، لیاقت نیشنل میڈیکل کالج ، لیاری میڈیکل کالج سمیت ڈائو یونیورسٹی کے ینگ ڈاکٹرز نے تحقیقی مقالے پیش کیئے، انہو ں نے مزید کہا کہ عام طور پر بڑے پیمانے پر منعقد ہونے والی کانفرنسز میں ینگ ڈاکٹرز کو اپنے تحقیقی مقالے پیش کرنے کا موقع نہیں ملتا، سمٹ میں ینگ ڈاکٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے پینل ڈسکشن میں بھی انہی میں سے ڈاکٹرز کو منتخب کیا گیا تاکہ ان میں مزید اعتماد پیدا ہو اور تحقیقی شوق پیدا ہو، ہم نے آج کی سمٹ کے لیے 20تحقیقی مقالوں کو چنا تھا۔

سمٹ کے سکریٹری ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عاطف نے کہا کہ تحقیق کا شعبہ ہمارے ملک میں کمزور پڑ رہا ہے، اس کی ایک وجہ نوجوان ڈاکٹرز کی حوصلہ افزائی میں کمی بھی ہے، نوجوان ڈاکٹرز محنت کرتے ہیں اور آگے بڑھنا بھی چاہتے ہیں، مگر انہیں درست سمت میں مدد درکار ہے، آج کے تحٴْقیقی مقالوں کو سینئر ای این ٹی پروفیسر ز کے فیصلے کے مطابق اول ڈاکٹر شایان خان، دوم ڈاکٹر ماہین پیار علی اور سوئم حذیفہ معیز انعام دئیے گیے۔