سکائوٹس معاشرے میں نچلی سطح پر شہری ذمہ داریوں کا احساس پیدا کر کے تبدیلی کا محرک بن سکتے ہیں،عارف علوی

کئی اقوام نے قوت ارادی، علم و دانش اور بلند کردار سے دنیا میں اپنا مقام بنایا ہے، آج ہمیں انہی اصولوں پر چلتے ہوئے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے،غربت، ناخواندگی اور صحت جیسے عام آدمی کے مسائل کے حل کے لئے امن بہت ضروری ہے، صدرمملکت کا خطاب

منگل جنوری 23:27

سکائوٹس معاشرے میں نچلی سطح پر شہری ذمہ داریوں کا احساس پیدا کر کے تبدیلی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 جنوری2020ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سکائوٹس معاشرے میں نچلی سطح پر شہری ذمہ داریوں کا احساس پیدا کر کے تبدیلی کا محرک بن سکتے ہیں،کئی اقوام نے قوت ارادی، علم و دانش اور بلند کردار سے دنیا میں اپنا مقام بنایا ہے، آج ہمیں انہی اصولوں پر چلتے ہوئے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے،غربت، ناخواندگی اور صحت جیسے عام آدمی کے مسائل کے حل کے لئے امن بہت ضروری ہے۔

وہ 16 ویں چیف سکاؤٹ آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ حلف برداری کی تقریب منگل کو یہاں ایوان صدر میں ہوئی۔ چیف کمشنر پاکستان بوائے سکائوٹس ایسوسی ایشن سرفراز قمر ڈاھا نے ڈاکٹر عارف علوی سے چیف سکائوٹ آف پاکستان کا حلف لیا اور انہیں سکائوٹ سکارف پیش کیا۔

(جاری ہے)

صدر مملکت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے باعث افتخار ہے کہ انہوں نے قائد اعظم کی پیروی کرتے ہوئے آج پاکستان کے چیف سکاؤٹ کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے طالب علمی کے دور میں بھی سکاؤٹ رہ چکے ہیں اور اس سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد ابتدائی مشکلات و مسائل کا ادراک کرتے ہوئے قائد اعظم نی قوم کو واضح پیغام دیا تھا کہ تعمیر پاکستان کی راہ میں مشکلات سے گھبرانا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے محض وسائل کی بنیاد پر نہیں بلکہ قوت ارادی، علم و دانش اور بلند کردار سے دنیا میں اپنا مقام بنایا ہے، آج ہمیں انہی اصولوں پر چلتے ہوئے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

صدر مملکت نے سکاوٹس پر زور دیا کہ وہ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے اور دنیا کو رہنے کے لئے اچھی جگہ بنانے میں کردار ادا کریں جو لوگوں میں تعلیم، صحت و صفائی کے فروغ اور بدعنوانی کی روک تھام کے متعلق احساس و آگاہی کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مشرقی سرحد پر کشیدگی کے چیلنج کا سامنا ہے اور پاکستان کی امن کی کوششوں کے جواب میں اس کے لئے مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے ہی خطاب میں تمام ہمسائیہ ممالک کو امن کا پیغام بھیجا تھا جس کا بدقسمتی سے مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غربت، ناخواندگی اور صحت جیسے عام آدمی کے مسائل کے حل کے لئے امن بہت ضروری ہے۔ تقریب میں وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود، پاکستان سکاؤٹس ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔