بھارت نے کشمیریوں کی زمینیں اور دیگر املاک ہتھیانے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا

بھارتی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو6ہزار ایکڑ اراضی فراہم کی جائے گی

جمعہ فروری 13:32

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 فروری2020ء) بھارت نے کشمیریوں کی زمینیں اور دیگر املاک ہتھیانے کے اپنے گھنائونے منصوبے پر عملد رآمد کا آغاز کرتے ہوئے بھارتی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو مقبوضہ علاقے میں چھ ہزار ایکڑ اراضی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قابض انتظامیہ نے اس سلسلے میں اراضی کی نشاندہی کا کام بھی مکمل کر لیا ے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت رواں برس اپریل اور مئی میں مقبوضہ علاقے میں بین الاقوامی کاروباری کانفرنس کا انعقاد کرنے جا رہا ہے جس دوران سرمایہ کاروں کو مذکورہ اراضی دینے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ کانفرنس کے حوالے سے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ پرائیویٹ کمپنیوں کو وادی کشمیر میں سرمایہ کاری کی خاطر اراضی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ فول پروف سیکورٹی ، ٹیکسز میں چھوٹ اور انشورنش تحفظ بھی دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

سرینگر سے شائع ہونے والے ایک اردو اخبار کی خبر کے مطابق قریباً 250کمپنیاں کشمیر میں سرمایہ کاری کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ ادھر مقبوضہ علاقے کے سابق وزیر خزانہ حسیب درابو نے بھارتی اور عالمی سرمایہ کاروں کو وادی میںسرمایہ کاری کیلئے زمین فراہم کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حالات پر امن نہیں ہونگے اس وقت تک یہاں سرمایہ کاری کاکوئی فائدہ نہیں۔