ہارون اختر نے چیئرمین ایف بی آر کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا

معاون خصوصی کے مساوی عہدہ قبول نہیں، ہارون اختر نے وزیر کے مساوی عہدہ مانگ لیا ہے۔ ذرائع

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ فروری 16:34

ہارون اختر نے چیئرمین ایف بی آر کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 فروری 2020ء) سینئر ٹیکنوکریٹ اور سیاستدان ہارون اختر نے چیئرمین ایف بی آر کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا، معاون خصوصی کے مساوی عہدہ قبول نہیں، ہارون اختر نے وزیر کے مساوی عہدہ مانگ لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی اقتصادی ٹیم نے ہارون اختر کو وزیرکے مساوی عہدہ دینے کی مخالفت کردی ہے، ایک ہی شعبے کیلئے وزیرکے مساوی دو عہدے نہیں دیے جاسکتے۔

حکومتی ٹیم کی مخالفت کے بعد ہارون اختر نے محض معاون خصوصی کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیاہے۔ ہارون اختر نے وزیر کے مساوی عہدہ مانگ لیا۔سینئرتجزیہ کار عارف نظامی نے گزشتہ روزاپنے تبصرے میں بتایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ن لیگی رہنماء ہارون اختر کو چیئرمین ایف بی آر کی پیشکش کی ہے۔

(جاری ہے)

قمر خان صاحب کی ن لیگ کے ہمایوں اختر سے بڑی دوستی ہے، ہارون اختر کی قمر خان کے ذریعے وزیراعظم سے ملاقات ہوئی۔

ہارون اختر بڑے قابل آدمی ہیں، عمران خان ان سے ملاقات کرکے بڑے خوش ہوئے ، ہارون اختر نے وزیراعظم کومعیشت کے حقائق بتائے، کہ فلاں تمام چیزیں ٹھیک نہیں چل رہیں،ہارون اختر سے وزیراعظم نے پوچھا کہ آپ پھرآرہے ہیں ؟ حکومت کے پاس ایک آپشن موجود ہے، لیکن ہارون اختر کو چیئرمین ایف بی آر نہیں بلکہ وزیراعظم کا مشیر آنا چاہیے۔لیکن ہمارے مشیر خزانہ حفیظ شیخ بڑے حاسد ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ خزانہ کے محکمہ ریونیو بھی ان کے پاس ہو۔

آپ کو یاد ہے کہ حماد اظہر کو ریونیو کا قلمدان دیا گیا تھا لیکن حفیظ شیخ ناراض ہوگئے اور حماد اظہر سے قلمدان واپس لے لیا گیا۔ لیکن اب وزیراعظم عمران خان حفیظ شیخ کی ناراضگی افورڈ کرسکتے ہیں کیوں کہ وہاں اب تبدیلی کی ضرورت ہے۔اس سب کے باوجود ہمارے ہاتھ آئی ایم ایف نے باندھے ہوئے ہیں، شبر زید ی کو حفیظ شیخ نے کہا کہ آپ نے یہ ٹھیک نہیں کیا وہ ٹھیک نہیں کیا، جس پر وہ چلے گئے۔

عارف نظامی نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر کیلئے ہارون اختر کو جو آفر کی گئی ہے، وہ اس کیلئے تیار ہیں، ان کے بھائی ہمایوں اختر پہلے ہی پی ٹی آئی میں ہیں۔عارف نظامی نے ایک سوال پر کہا کہ کچھ سیاستدان ہوتے ہیں جن کی پارٹی جے جے این ، جیڑا جیتے اودھے نال، یہ بھی ایسے ہیں۔ہارون اختر کی کوئی سیاسی آئیڈیالوجی نہیں ہے، وہ ٹیکنوکریٹ ہیں۔