مودی انڈیا کی انتہاء پسند سوچ کامارکیٹنگ فیس ، اصل نظریہ اور دماغ اسکے پیچھے ہے کہ خطے میں ہندوستان کی اجارہ داری قائم کی جائے،راجہ محمد فاروق حیدر

ہندوتوا کے نظریے پر عمل پیرا ہندوستانی حکمران خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں،بھارتی حکومت رائے عامہ کو تبدیل کرنے کیلئے جارحیت ، خون ریزی اور کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہے،ہندوستا ن نے مقبوضہ کشمیرکی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کیلئے ہندو آباد کاری کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے،انسانی تاریخ کے اندوہناک مظالم کشمیریوں کے عزم کو نہیں توڑ سکتے،وزیر اعظم آزاد کشمیر

ہفتہ فروری 17:22

مودی انڈیا کی انتہاء پسند سوچ کامارکیٹنگ فیس ، اصل نظریہ اور دماغ اسکے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 فروری2020ء) وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ مودی انڈیا کی انتہاء پسند سوچ کامارکیٹنگ فیس ہے ، اصل نظریہ اور دماغ اس کے پیچھے ہے کہ خطے میں ہندوستان کی اجارہ داری قائم کی جائے ۔ہندوتوا کے نظریے پر عمل پیرا ہندوستانی حکمران خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

بھارتی حکومت رائے عامہ کو تبدیل کرنے کے لیے جارحیت ، خون ریزی اور کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہے۔ہندوستا ن نے مقبوضہ کشمیرکی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کیلئے اندرون بھارت سے مقبوضہ وادی میں ہندو آباد کاری کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے ۔ غیر جانبدار اداروں اور میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر پابندیا ں ہیں ۔ہندوستان مسلسل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے ۔

(جاری ہے)

انسانی تاریخ کے اندوہناک مظالم کشمیریوں کے عزم کو نہیں توڑ سکتے ۔ کشمیریوں کا عزم غیر متزلزل ہے اور انہوںنے خون دیکر اس تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کینیڈا کی سول سوسائٹی کے وفد کی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وفد میں پروفیسرز، صحافیوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ ہندوستان نے گزشتہ سال 5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ناپاک کوشش کی ۔ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے ۔ 5اگست کا اقدام اندرون بھارت سے ہندوئوں کا لاکر مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنا ہے ۔ دریں اثناء کینیڈین ٹی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ ہندوستان نے چودہ ہزار سے زائد نوجوانوں کو جیلوں میںقید کر کے ان پر تشدد کررہا ہے جن میں سکول پڑھنے والے بچے بھی شامل ہیں۔

ہندوستان کا یورپین و دیگر ممالک کے سفراء کو سرینگر کا دورہ کروانا اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ انتہاء پسند مودی نے کشمیرکے معاملے پر شرمندگی سے بچنے کیلئے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں5اگست کے بعد مکمل لاک ڈائون اور کرفیو ہے ۔ حریت رہنماء قید ہیں ۔ کسی کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں ۔

بھارت گزشتہ سات دھائیوں کے دوران مقبوضہ کشمیر پر اپنے ناجائز قبضے کو قانونی بنانے کیلئے مختلف حربے استعمال کرتا رہا ہے ۔ قابض بھارتی افواج نے لاکھوں بے گناہ لوگوں کو شہید کیا ہے۔نوجوانوں کا اغواء، پیلٹ گن سے نوجوانوں کی بینائی چھیننا ، گھروں کو مسمار کرنا، نوجوانوں کا لاپتہ ہونا، حریت رہنمائوں کی گرفتاریاں معمول کے واقعات ہیں ۔

آئے روزقابض ہندوستانی افواج معصوم شہریوں کے گھروںمیں گھس کر انہیں تشدد کا نشانہ بناتی اور خواتین کی بے حرمتی کرتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تحریک آزادی کی جدوجہد میں کشمیری جوانوں ، بچوں اور خواتین نے بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ ہندوستان گزشتہ ساتھ دھائیوں سے انسانیت سوز مظالم ڈھا کر بھی کشمیریوں کی تحریک کو نہیں دبا سکا۔ کشمیریوں کے دلوں سے موت کا ڈر ختم ہو چکا ہے وہ جدید اسلحہ سے لیس بھارتی افواج کو مقابلہ نہتے ہاتھوں کرتے ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول پر آباد شہری بھی بھارتی جارحیت سے محفوظ نہیں ہیں۔ بھارتی افواج لائن آف کنٹرول پر آباد معصوم شہریوںکو اپنی گولیوں کا نشانہ بناتی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ بین الاقوامی دنیا کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق دلوانے کیلئے بھارت پر دبائو ڈالیں ۔ انہوں نے کہاکہ اگر مسئلہ کشمیر کو حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا تک جائیں گے ۔