شہبازشریف کی پارٹی میں کوئی حیثیت نہیں، چودھری شجاعت

ن لیگ کو ووٹ نوازشریف کی وجہ سے ملتا ہے، امید ہے عمران خان نعیم الحق کے وعدے پورے کریں گے۔ سربراہ ق لیگ چودھری شجاعت کی جدہ میں پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار فروری 21:09

شہبازشریف کی پارٹی میں کوئی حیثیت نہیں، چودھری شجاعت
جدہ (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ خرم خان سے۔ 16 فروری 2020ء) مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ شہبازشریف کی پارٹی میں کوئی حیثیت نہیں، ن لیگ کو ووٹ نوازشریف کی وجہ سے ملتا ہے، اختلافات تمیز کے دائرے میں ہونے چاہئیں، ذاتی پگڑیاں نہ اچھا لی جائیں۔ انہوں نے جدہ میں سعودی عرب کے پارٹی ذمہ دران  چئیرمین چوہدری اظہر وڑائچ اور صدر سفیان گجر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نعیم الحق کی وفات سے عمران خان کے کندھوں پر حکومتی ذمہ داریاں پہلے سے بڑھ گئی ہیں۔

مسلم لیگ ق کا پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد قائم کرنے میں سب سے زیادہ کردار نعیم الحق کا تھا۔ ہمیں جو حکومتی ٹائم منٹ دئیے جاتے تھے حکومت میں وہ نعیم الحق دلاتے تھے۔ ہمیں امید ہے عمران خان نعیم الحق کے وعدے اب پورے کریں گے۔

(جاری ہے)

حکومت چلانے اور پارٹی بنانے میں نعیم الحق کا سب سے زیادہ کردار تھا۔ ہمارے اتحاد بنانے میں بھی ان کا ہم کردار رہا ہے اس وقت پاکستان کی معاشی صورت حال بہت خراب ہو چکی ہے اور ہمارے مثبت مشوروں کو وزیر اعظم عمران خان حکومت پر تنقید سمجھتے ہیں اس وقت سب کو ملکر ملک کا سوچنا ہے اگر  ملکی یہی صورتحال رہی تو آئندہ تین ماہ بعد کوئی پاکستان کا وزیر اعظم بننے کو بھی تیار نہیں ہو گا۔

اتحاد میں شامل فسادیے نہ جانے۔ وزیر اعظم کو کیا رپورٹ دیتے ہیں ملک میں آٹا، چینی بحران پیدا ہونا حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیں۔ اس کی ذمہ داری پالیسی بنانے والوں ہیں جب ہماری اپنی ضرورت نہیں پوری ہو رہی تو ہم کیوں چیزیں ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ ن لیگ سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ  شہباز شریف کا ملک میں واپس آنا نہ آنا برابر ہے۔

کیونکہ ان کی سیاست میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ پارٹی کو ووٹ نوازشریف کی وجہ سے ملتا ہے۔ شہباز شریف کی کوئی حثیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں ملک کے خلاف بولنے والوں اور تمیز کی حدیں پار کرنے والوں کی رکنیت معطل کی جائے۔ اختلافات اور تنقید تمیز کے دائرے میں رہ کر کی جائے۔ ذاتی پگڑیاں نہ اچھا لی جائیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار ہوں اوورسیز کے لیے ہم نے اپنے دور حکومت میں میت فری لانے کا طریقہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اوورسیز کی مشکلات کم کریں اور اورسیز پر ٹیکس نہ لگائے اور موبائل پے چھوٹ دے اوورسیز ملکی معشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتے ہیں۔