کشمورمیں دیرینہ دشمنی کے باعث 26 سال کے دوران 80 افراد قتل

پولیس خاموش تماشائی، قتل ہونے والے افراد کا نہ کوئی مقدمہ درج ہوا اور نہ کوئی ایف آئی آر کٹی۔

Usama Ch اسامہ چوہدری پیر فروری 23:06

کشمورمیں دیرینہ دشمنی کے باعث 26 سال کے دوران 80 افراد قتل
کشمور (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین 17 فروری 2020) : کشمورمیں دیرینہ دشمنی کے باعث 26 سال کے دوران 80 افراد قتل، پولیس خاموش تماشائی، کاروباری تنازعے کے باعث دشمنی کا آغاز ہوا۔ تفصیلات کے مطابق کشمور میں کاروباری تنازعے سے ایک دشمنی شروع ہوئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے 80 افراد کی جان لے لی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پولیس اس واقعے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

انکا کہنا ہے کہ یہ لوگ الیکشن میں کام آتے ہیں اس لیے پولیس پر دباؤ رہتا ہے اور وہ کاروائی کرنے سے قاصر ہے۔ دشمنی میں قتل ہونے والے 80 افراد کا نہ کوئی مقدمہ درج ہوا اور نہ کوئی ایف آئی آر کٹی۔ بتایا گیا کہ دونوں گروپوں میں متعدد بار صلح کروائی گئی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ ان تمام افراد کو وڈیروں کی پشت پناہپی حاصل ہے اس لیے پولیس بھی کاروائی کرنے سے ہچکچاتی ہے۔

(جاری ہے)

مذکورہ دشمنی کی وجہ سے قریبی سکول بند ہو چکے ہیں، بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں، صحت کے مراکز ویران ہو چکے ہیں اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک ایسا ہی واقعہ شیخورہ کے علاقے سترہ آباد میں میں پیش آیا تھا جہاں تیس سال سے چلی دشمنی نے تیتیس قیمتی جانیں لے لیں۔ 1988 میں دو لاکھ مالیت کی ایک ایکڑ زمین پر تنازعہ شروع ہوا۔ لڑائی کے دوران اشتیاق گروپ نے شفیع گروپ کے محمد اقبال کو قتل کردیا۔

عدالت میں کیس چلا تو اشتیاق گروپ نے مقدمے کے گواہ عبدالرزاق کو بھی قتل کردیا۔ اس کے بدلے میں شفیع گروپ نے 1999 میں مرکزی ملزم اشتیاق کے چچا کو، 2005 میں والد کو اور 2014 میں بھائی کو قتل کر دیا۔ بدلے کی آگ میں اشتیاق گروپ نے شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور فیصل آباد میں شفیع گروپ کا جو بھی فرد ملا اسکو موت کے کھاٹ اتار دیا۔2014 میں مرکزی ملزم اشتیاق عرف سرفراز کو گرفتار کر لیا گیا۔

ملزم کے جیل ٹرائل کے دوران شفیع گروپ کے دو اور افراد کو قتل کر دیا۔ 2019 میں اشتیاق گروپ نے ایک اور باپ بیٹے کو قتل کردیا اور اب 31 جنوری کو شفیع گروپ کے مزید 5 افراد کو پیشی پر جاتے ہوئے قتل کر دیا۔ اس لڑائی میں اب تک شفیع گروپ کے 30 جبکہ اشتیاق گروپ کے 5 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے لواحقین کا کہنا ہے کہ انکے گھر میں کوئی بھی مرد نہیں بچا اور انکی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے، اگر یہ معاملہ پہلے ہی حل ہو جاتا تو بہت سے جانیں بچ جاتیں۔